The Prophet of Islam: Benefactor of Humanity
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۳۰
تاہم ایک چیز سب میں مشترک ہے۔ وہ یہ کہ ان کی اکثریت تعلیم یافتہ نہیں۔
غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے افغانی مجاہدین ایک بات کو جانتے ہیں، مگر وہ دوسری اہم تر بات کو نہیں جانتے۔ وہ اس بات کو مبالغہ آمیز حد تک جانتے ہیں کہ ان کی شجاعت نے روسی فوجوں کو واپسی پر مجبور کیا ہے۔ مگر وہ اس تاریخی حقیقت سے سرے سے نا واقف ہیں کہ روسی فوجوں کی افغانستان سے واپسی دراصل ایک دور کا خاتمہ ہے۔ یہ ویسا ہی معاملہ ہے جیسے مہاتما گاندھی کی تحریک آزادی نے انگریزوں کو ہندوستان سے نکلنے پر مجبور کیا۔ مگر انگریزوں کا یہاں سے نکلنا اسی کے ساتھ اس بات کا اعلان بھی تھا کہ اب قدیم طرز کا نو آبادیاتی دور (Colonial age) ختم ہو چکا ہے۔ اب وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ مجاہدین میں اگر کچھ ایسے لوگ ہوتے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے اور وقت کی رفتار کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے تو وہ جان لیتے کہ روسی فوجوں کی واپسی سادہ طور پر صرف واپسی نہیں ہے، یہ اس دور کا خاتمہ ہے جس میں روسی طرز کا تداخل ممکن ہوتا تھا۔ اگر افغانی مجاہدین اس راز کو جانتے تو ان کا طرزِ کار بالکل بدل جاتا۔ ہتھیار کی طاقت سے انھوں نے خارجی حریف کو زیر کیا تھا، امن کی طاقت سے وہ داخلی حریف پر قابو پالیتے۔ کابل سے انگریزی کا صرف ایک اخبار نکلتا ہے جس کا نام "کابل ٹائمٹس" ہے۔ البتہ فارسی (دری) میں بہت سے اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ اخبار انیس (۱۰ ربیع الاول ۱۴۰۹) کے ایڈیٹوریل کا عنوان تھا: محمد مصلح کبیر وانسان دوست ہنر رگ ۔ اس میں مولوی عبدالشکور (خطیب مسجد جامع باغ بالا) کی ایک تقریر کی رپورٹ تھی۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا "____ "مصلح را پیش کش می کنیم"۔ خبر کے مطابق انھوں نے کہا: روایت است در جنگ حدیبیہ با وجو دیکہ شرایط گرانی را بالای محمد قبول دار گردیدند، آنحضرت صلح را ترجیح داد۔ زیر امی دانست کہ یک طرف مشرکین از جملہ اقوام اومي باشند، و طرف دیگر یار ان ہمر کا بش، پس صلح حدیبیہ را به خاطر قطع جنگ و خون ریزی قبول دار شد۔
برادر کشی کے خاتمہ کے لئے، برائے ختم برادرکشی، افغان مجاہدین سے صلح کی پیش کش کی مزید تفصیل مجھے امریکی میگزین ٹائم (۲۴ اکتوبر ۱۹۸۸) سے ملی۔
ٹائم (۲۴ اکتوبر ۱۹۸۸) نے لکھا ہے کہ افغانستان میں اس وقت ۳۵ سالہ احمد شاہ مسعود کو "شیر پنج شیر" کی حیثیت حاصل ہے۔ اس افغانی نوجوان نے کابل کے پالی ٹکنیک انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ پچھلے تقریباً دس سال سے وہ مجاہدین کا استاد بنا ہوا ہے۔ اس کا تعلق افغانستان
‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues