Al-Risala · March 1989 · page 32

The Prophet of Islam: Benefactor of Humanity

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۳۲

ہو اکوئی قوم خواہ عسکری طاقت میں سپر پاور" کا درجہ حاصل کرلے وہ محض طاقت کے بل پر کسی قوم کو زیر یں کرسکتی۔

اس کے بعد ٹھیک اسی عمل کو سوویت روس نے افغانستان میں دہرایا۔ بعض داخلی اسباب نے اس کو موقع دیا اور اس نے اپنی دیری خواہش کے تحت افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کردیں۔ مگر یہ اقدام ان کے لئے بے حد مہنگا پڑا۔ یہاں تک کہ 1988 میں انھوں نے افغانستان سے واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح اب یہ بات آخری طور پر ثابت ہو گئی کہ بین اقوامی معاملات میں طاقت کو پہلا فیصلہ کن مقام حاصل نہیں۔

افغانستان کی موجودہ سیاست بے حد مخدوش ہے۔ روس اگرچہ اپنی فوجوں کو واپس بلا رہا ہے تاہم وہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں ایسی حکومت قائم ہو جو کمیونسٹ نواز نہ ہو یا کم از کم اینٹی کمیونسٹ نہ ہو۔ دوسری طرف ”مجاہدین“ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں سوویت روس کے کسی بھی اثر ونفوذ کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ امریکہ اور پاکستان اس مطالبہ کی تائید کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ”مجاہدین“ کی حکومت ہوگی وہ امریکہ نواز یا پاکستان نواز ہوگی۔

اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ "مجاہدین" کی بندوقوں کا رخ جو پہلے روسیوں کی طرف تھا ، اب وہ حکمراں افغانی گروہ کی طرف ہو گیا ہے ، کیونکہ ان کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہ روسی پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں۔

ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ اس مسئلہ کا حل خوش تدبیری اور ایڈ جسٹمنٹ ہے۔ مگر بظاہر ایسا ہونا نا ممکن ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلے دس سال سے مجاہدین کے غیر مصالحانہ تشدد کو سارے عالم اسلام میں جس طرح گلوریفائی کیا گیا ہے اور جس طرح ان کو ہیرو بنایا گیا ہے ، اس کے بعد ایڈیجسٹمنٹ کی پالیسی ان کے لئے ہیرو کے مقام سے اترنے کے ہم معنی ہوگی ۔ اور انسان کے لئے بلا شبہ یہ مشکل ترین کام ہے۔ مجھے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اگر بالفرض روسی اثر و نفوذ افغانستان سے ختم ہو جائے تب بھی اصل مسئلہ ختم ہونے والا نہیں۔ کیونکہ عدم برداشت کا مزاج جو اس وقت روسیوں یا روس نوازوں کے خلاف کام کر رہا ہے وہی خود اپنوں کے خلاف کام کرنے لگے گا۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز نہ برداشت ہے ، دوسروں کے مقابلہ میں بھی اور خود اپنوں کے مقابلہ میں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page