Al-Risala · March 1989 · page 33

The Prophet of Islam: Benefactor of Humanity

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۳۳

اس سلسلہ میں لینن کی مثال بہت سبق آموز ہے۔ روس میں زار کے زوال کے بعد 15 مارچ ۱۹۱۷ کو پہلی پرووژنل گورنمنٹ بنی۔ اس میں لینن کی حیثیت صرف اقلیتی ممبر کی تھی۔ اس کا وزیرِ اعظم شاہی خاندان کے جارجی لووف (Prince Georgy Lvov) کو بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد الیگزینڈر کرنسکی (Aleksander Kerensky) کو ایک اہم وزیر کی حیثیت سے اس میں نمبر ۲ کی حیثیت حاصل تھی، لینن کی حیثیت یہ تھی کہ وہ بالشویک پارٹی کا ممبر تھا جو اس وقت کی اسمبلی (Soviets) میں ایک اقلیتی گروپ تہائی کی تعداد رکھتی تھی۔

مگر لینن نے انتہائی گہری تدبیروں کے ساتھ اولاً حریف پارٹی کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور اس کے بعد گہری تدبیروں کے ذریعہ 6 نومبر ۱۹۱۷ کو ماسکو کی پوری حکومت اپنے قبضہ میں کر لی۔ لینن ابتداً اکثر پر راضی ہوا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج اس کا ملک دو بڑی طاقتوں میں سے ایک بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ افغانی مجاہدین "کمتر" پر راضی ہونے کے لئے تیار نہیں اس لئے مجھے امید نہیں کہ وہ کبھی برتر کو پانے میں کامیاب ہو سکیں گے (68/16-EB)

افغانستان میں اگر آپ افغانی مجاہدین سے ملیں تو وہ کہیں گے کہ اسلام "دین جہاد" ہے۔ اس کے برعکس کابل کے حکمراں طبقہ سے ملیں تو وہ کہیں گے کہ اسلام "دین صلح" ہے۔ بظاہر دونوں اسلام کا لفظ بول رہے ہیں۔ مگر حقیقتاً دونوں کا مقصد ایک ہے۔ اسلام کو اپنی پالیسی کی تائید کے لئے استعمال کرنا۔ افغان مجاہدین کے لئے جہاد کی آیتیں مفید ہیں اس لئے وہ جہاد کی آیتوں کے حوالے دیتے ہیں۔ اس کے برعکس حکمران طبقہ کے لئے صلح کی آیتیں مفید مطلب ہیں اس لئے وہ صلح کی آیتوں کی تلاوت کر رہے ہیں۔ آبزرور (Observer) کے نمائندہ مسٹر آرتھر کینٹ (Arthur Kent) نے افغانستان کے اندرونی علاقوں کا سفر کیا۔ اس سلسلہ میں وہ قندھار گئے۔ اپنے مشاہدات کے بعد انھوں نے چھ رپورٹ مرتب کی، اس کو ٹائمز آف انڈیا (۱۳ اکتوبر ۱۹۸۸) نے نقل کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ افغانستان کے سرسبز علاقے اجڑے ہوئے صحرا کا منظر پیش کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ تمام بربادیوں کے باوجود افغانستان کا مستقبل غیر یقینی ہے، کیونکہ مجاہدین سات گروپ میں بٹے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے مستقبل کے نقشہ کے بارے میں ان کے درمیان اتفاق نہیں۔ افغانی مجاہدین کے پاس "پولیٹیکل لیڈر شپ" نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ۲۳ الر سالہ مارچ ۱۹۸۹

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page