Al-Risala · March 1989 · page 34

The Prophet of Islam: Benefactor of Humanity

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۳۴

قندھار کے لائقيب اللہ سے گفتگو کی۔ آرتھر کنٹ کی رپورٹ کے مطابق ان کا جواب یہ تھا:

صدر نجیب اللہ کے چلے جانے بعد ہم ایک کونسل بنائیں گے تاکہ تمام افغانی مل کر یہ فیصلہ کریں کہ کون ملک پر حکومت کرے ۔ جہاں دو رجدو جہد میں اتحاد نہ ہو، وہاں دور اقتدار میں اتحاد اور بھی زیادہ ناممکن ہو جاتا ہے، مگر افغانی لیڈروں کو اس کی خبر نہیں۔ ٹائم دہم ۴ اکتوبر ۱۹۸۸) کی تین صفحہ کی تصویر یہ رپورٹ میں ایک بات یہ بتائی گئی ہے کہ روسیوں کے بیان کے مطابق، ان کے 312 فوجی گم ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ روسی فوجی ہیں جن کو مجاہدین نے گرفتار کر لیا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو از خود بھاگ کر آنے والے (Defectors) ہیں۔ ان میں سے کچھ کو ٹائم کے نامہ نگار ٹی اے ڈیوس (T.A. Davis) نے خود سفر کے دوران دیکھا ہے۔ ٹائم کا بیان ہے کہ ان روسی فوجیوں میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے جو مجا ہدین کا مذہب ہے اور خود ان کے سابق باپ دادا کا بھی: روس کا انخلاء اگرچہ ابھی افغانستان سے مکمل نہیں ہوا ہے۔ تاہم عملی صورت حال میں اب بنیادی فرق پیدا ہو چکا ہے۔ پہلے افغانی مجاہدین کے تشدد کا نشانہ زیادہ تر روسی فوجیں بنتی تھیں۔ اب ان کے تشدد کا نشانہ خود ان کی اپنی قوم بن رہی ہے۔ پہلے وہ روسیوں کو مارتے تھے، اب وہ "روس حامی افغانیوں" کو مار رہے ہیں۔ مگر اس کو خواہ جو نام بھی دیا جائے، تاہم عملی واقعہ یہی ہے کہ پہلے اگر روس کا خاندان اپنے بیٹوں سے محروم ہو رہا تھا تو اب افغانی خاندان اپنے بیٹوں اور جوانوں سے محروم ہو رہا ہے پہلے اگر روسی ٹینک تباہ ہوتے تھے، تو اب خود افغانیوں کے کھیت اور باغ اور مکان تباہ ہو رہے ہیں۔ دہلی میں جو لوگ پالَم کے علاقے میں یا اس کے قریب رہتے ہیں، ان کے لئے سر پر گھڑ گھڑاتے ہوئے ہوائی جہازوں کی آوازیں روزانہ کا معمول ہیں۔ کابل میں پورے شہر کا یہی حال ہے۔ ہوائی اڈہ پر اترنے کے بعد سے لے کر پورے زمانہ قیام تک رات دن یہ حال تھا کہ فضا میں ہوائی جہاز اُڑتے ۳۴ الر سالہ مارچ ۱۹۸۹

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page