Al-Risala · January 1989 · page 13

مذہب اور سیاست

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۳

اب چونکہ مذہب تمام انسانوں سے محبت اور خیر خواہی کی تعلیم دیتا ہے اس لئے جب کوئی سچا مذہب انسان سیاست کے میدان میں آئے گا تو وہ انسانوں کی محبت کی بنیاد پر اپنی سیاسی تحریک چلائے گا۔ وہ سیاست میں ان اعلی انسانی قدروں کو شامل کرے گا جو مذہب کا روح اور خلاصہ ہیں۔ مثلاً بے غرضی، اصول پسندی، انصاف، استحصال سے بچنا، حقوق سے زیادہ ذمہ داریوں کا خیال، وغیرہ۔

اس کے برعکس اگر کوئی شخص مذہب کا نام لیتا ہے۔ اور اسی کے ساتھ وہ نفرت اور تشدد کی سیاست چلانا چاہتا ہے تو یقینی طور پر وہ مذہبی نہیں ہے۔ وہ مذہب کو صرف اپنے خود غرضانہ مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ کیوں کہ مذہب اور نفرت یا مذہب اور تشدد دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

مذہب اور سیاست کا لفظ ایسا ہی ہے جیسے محبت اور سیاست کا لفظ۔ محبت سے بھرا ہوا دل ، خواہ وہ سیاست کے پلیٹ فارم پر ہو یا اور کسی پلیٹ فارم پر، کبھی نفرت اور دشمنی کی بات نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جس انسان کے اندر مذہب کی روح اتری ہوئی ہو وہ کبھی نفرت اور دشمنی کی بات نہیں کرے گا، خواہ وہ سیاست کے میدان میں ہو یا کسی اور میدان میں۔ نوٹ : آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ، 17 اکتوبر 1988 کو نشر کیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues

Printed page