Al-Risala · March 1989 · page 35

اپوزیشن، افراطیون، اشرار

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۹، صفحہ ۳۵

ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ تا ہم دہلی اور کابل میں ایک فرق ہے۔ دہلی کی فضا میں اڑنے والے جہا زمسا فر جہاز ہوتے ہیں اور کابل کی فضا میں اڑنے والے جہاز جنگی جہاز۔ ایک افغانی سے میں نے اس کا ذکر کیا تو اس نے مسکرا کر کہا: You know, we are at war. مجھے یہ جاننے کی خواہش تھی کہ وہ لوگ جن کو باہر کی دنیا میں ”مجاہدین“ کہا جاتا ہے، ان کو افغانستان کے لوگ کیا کہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے میں نے ایک نوجوان (۲۴ سال) کو لیا۔ ان سے میں نے ایسے موقع پر گفتگو کی جب کہ وہاں کوئی ہماری گفتگو کو سننے والا موجود نہ تھا۔ میرے سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ یہاں ان کو مجاہدین تو کوئی نہیں کہتا۔ البتہ یہاں کے لوگوں میں ان کے لئے عام طور پر تین الفاظ رائج ہیں :

اپوزیشن، افراطیون، اشرار

روس ۔ افغانستان جنگ پر ایک معلوماتی فلم بنائی گئی ہے۔ یہ فلم ۴ اکتوبر ۱۹۸۸ کو بی بی سی ٹیلیویژن پر دکھائی گئی ۔ اس فلم میں افغانی فوجیوں کے مکالمات ہیں۔ اسی کے ساتھ اس میں روسی فوجیوں کے تاثرات بھی ان کی اپنی زبان میں دکھائے گئے ہیں۔ اس کے مطابق، ایک روسی جنرل نے کہا کہ مستقبل میں اگر کبھی سوویت یونین کو کوئی بین الاقوامی طاقت کے ذریعہ حل کرنا پڑا تو وہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سو بار اس پر غور کرے گا۔

روسی جنرل نے مزید کہا کہ پچھلے دس سال کی اس جنگ میں بے شمار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ روس کے ایک اور فوجی افسر نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ خالصتہً ایک سیاسی غلطی تھی، اور اس غلطی کے تمام تر ذمہ دار سابق روسی وزیر اعظم لیونڈ برژنیف ہیں۔ برژنیف اگر زندہ ہوتے تو اس سنگین حقیقت کا انکشاف نہیں ہو سکتا تھا۔ تمام بڑی بڑی سیاسی غلطیاں صرف اس وقت کھلتی ہیں جب کہ ان کا ارتکاب کرنے والے لیڈر مر جائیں یا وہ اقتدار کی کرسی سے ہٹ چکے ہوں۔ روانگی سے پہلے دہلی میں مجھے سرینگر کا ایک ہفتہ وار اخبار (۷ اکتوبر ۱۹۸۸) ملا۔ اس میں افغانستان سے متعلق ایک مضمون تھا۔ نصف صفحہ میں اصل مضمون تھا ۔ اور بقیہ نصف میں حسب ذیل سرخی جلی حرفوں میں درج تھی :

" اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے افغان مجاہدین کی جد و جہد فیصلہ کن مرحلہ میں"

‹ Previous page Next page › Contents of March 1989 All issues

Printed page