مسجد
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۴
مسجد
"ہمارا مقصد مسجد والے اعمال کو زندہ کرنا ہے" تبلیغی جماعت کے لوگ جب یہ بات کہتے ہیں تو عام لوگوں کو بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے، بلکہ یہی سب سے بڑی بات ہے۔ "مسجد والے اعمال" کو اگر کسی جامدنی میں نہ لیا جائے تو اس میں دین کی ساری حقیقت آ جاتی ہے۔
مسجد والے اعمال کیا ہیں۔ مسجد والے اعمال یہ ہیں کہ آدمی کے اندر دینی شعور پیدا کیا جائے گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو انسانی شعور، ہی انسانی عمل کی بنیاد ہے۔ انسان کا خارجی عمل اس کے اندرونی شعور ہی کا خارجی ظہور ہوتا ہے۔ مسجد اسی ربانی شعور کی تعمیر کا مرکز ہے۔ اسی طرح ہر آدمی کا کوئی شعوری مرکز ہوتا ہے۔ ہر آدمی گویا کسی نہ کسی "مسجد" پر کھڑا ہوا ہے۔ دوسرے لوگ غیر خدائی مسجد پر کھڑے ہوتے ہیں۔ مسلمان وہ ہے جو خدائی مسجد کے اوپر اپنے آپ کو کھڑا کرے ۔ ایک سیاح جس نے دنیا کے اکثر حصوں کا سفر کیا ہے، لکھتا ہے کہ مختلف ملکوں کے سفر کے دوران میں نے ایک عجیب بات یہ دیکھی کہ غیر مسلم ملکوں میں ہر جگہ قدیم زمانہ کے بڑے بڑے قلعے کھڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ مسلم دنیا میں اس قسم کے مناظر بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ ہر مسلم شہر میں عالیشان مسجدیں ضرور ہیں جن کے اونچے مینار دور سے ان کے وجود کا پتہ دیتے ہیں۔ غیر مسلم ملکوں کی نمایاں عمارتیں اگر ان کے قلعے ہیں تو مسلم ملکوں کی نمایاں عمارتیں ان کی مسجدیں ۔ یہ فرق دونوں قسم کے لوگوں کے مزاج کا پتہ دیتا ہے۔ غیر مسلم قوموں کا اعتماد مادی اسباب پر تھا، اس لئے انہوں نے قلعے اور حصار کھڑے کئے ۔ اس کے برعکس مسلم قوموں کے عقیدہ کے مطابق ان کا اعتماد اللہ پر تھا۔ اس لئے وہ جہاں پہنچے، انھوں نے بڑی بڑی مسجدیں بنائیں۔ مسجد، محدود معنوں میں، صرف عبادت گھر نہیں، وہ اسلام کے حق میں خدائی قلعہ ہے۔ مسجدیں اسلامی دنیا کی نگہبان ہیں۔ مسجد کے ذریعہ اسلام اپنی حیثیت کو زمین پر قائم کرتا ہے ۔ اس کے ذریعہ سے وہ دلوں کو مسخر کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد قائم ہوتا ہے ایک حدیث میں مسجد کو اللہ سے ڈرنے والوں کا گھر کہا گیا ہے (المساجد بيوت المتقين )
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues