مسجد
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۵
مسجد خدا کا گھر ہے۔ مسجد میں خدائی اعمال کے ذریعہ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے جہاں آ کر مسلمان اپنے آپ کو اپنے رب کی چھاؤں میں محسوس کریں۔ وہاں سے دینی معرفت کی غذا لے کر باہر کی دنیا کی طرف لوٹیں۔ خود اسلام پر قائم ہوں اور دوسرے بندگان خدا کو اسلام پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔
مسجد ایک قسم کا دارالاسلام ہے۔ وہ اللہ کی یاد کی جگہ ہے۔ وہ اسلامی اتحاد کی تربیت گاہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے اعتماد علی اللہ کا نشان ہے۔ وہ اسلام کی دعوتی اور اصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ہے جب اسلام زندہ تھا تو مسجد صرف مسجد نہ تھی بلکہ وہاں اسلامی زندگی کے تمام شعبے قائم ہوتے تھے۔ مثلاً عبادت گاہ ، مدرسہ ، دار القضاء اجتماع گاہ، اسپتال، کتب خانہ، مسافر خانہ، مقام مشاورت اصلاحی و تبلیغی مرکز وغیرہ۔
مصر میں جب بنی اسرائیل کے لئے زمین تنگ ہو گئی تو حکم ہوا کہ اپنے گھروں کو مسجد بنا لو (یونس ۔ ۸۷) اس سے معلوم ہوا کہ حالات جب اہل ایمان کو پاپا کرتے کرتے ان کو آخری جائے پناہ (گھر) تک پہنچا دیں تو اس وقت ان کا گھر ہی جدوجہد کا میدان بن جاتا ہے۔ وہ اپنے گھروں کو مسجد کی صورت دے کر وہاں اپنے کو صبر و نماز کے ساتھ وابستہ کر دیتے ہیں۔ وہ اعتماد علی اللہ اور تعلق مع اللہ میں اپنا مستقبل تلاش کرنے لگتے ہیں۔ مسجد اہل ایمان کے لئے صرف در و دیوار کا مجموعہ نہیں ، وہ اپنے رب سے پلٹنے کے لئے تنہائی کا ماحول ہے۔ اور اللہ پر بھروسہ کا مزاج پیدا کر نے لئے مقام تربیت ہے۔ "مسجد اس بات کا نشان ہے کہ اہل ایمان کا قافلہ خواہ کتناہی پیچھے دھکیل دیا جائے ، اس کے لئے ہر حال میں ایک نئے سفر کا نقطہ آغاز موجود رہتا ہے۔ اس آخری قلعہ کو کسی حال میں کوئی ان سے چھین نہیں سکتا۔
اسی کے ساتھ مسجد کا ایک عمل اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ مسجد کی دنیا میں خدا پرستی اور آخرت پسندی کا ماحول پیدا کر کے دوسری قوموں کے افراد کو موقع دیا جائے کہ وہ یہاں آ کر اسلام کا مطالعہ ومشاہدہ کریں۔ اور اس بات سے آگاہی حاصل کریں کہ ان کے رب کی مرضی ان کے بارہ میں کیا ہے اور موت کے بعد خدا کی عدالت میں ان سے کس قسم کا سوال کیا جانے والا ہے۔ مسجد کی یہ دعوتی اور تبلیغی حیثیت قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues