تعداد کی نابرابری
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۹
باقی رہیں گی جن کے لیے ملک میں غیر شادی شدہ مرد موجود نہ ہوں گے جن سے وہ نکاح کر سکیں۔ دنیا کی آبادی میں مرد اور عورت کی تعداد کے فرق کو بتانے کے لیے یہاں کچھ مغربی ملکوں کے اعداد و شمار دیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا سے لیے گئے ہیں: COUNTRY MALE FEMALE 1. Austria 47.07% 52.93% 2. Burma 48.81 51.19 3. Germany 48.02 51.89 4. France 48.99 51.01 5. Italy 48.89 51.11 6. Poland 48.61 51.39 7. Spain 48.94 51.06 8. Switzerland 48.67 51.33 9. Soviet Union 46.59 53.03 10. United States 48.58 51.42 عورت کی رضامندی ایک سے زیادہ نکاح کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ آبادی کے اندر عورتیں زیادہ تعداد میں موجود ہوں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنا مطلوب ہے وہ خود بھی اپنی آزادانہ مرضی سے اس قسم کے نکاح کے لیے پوری طرح راضی ہو۔ اسلام میں عورت کی رضامندی مسلمہ طور پر نکاح کے لیے شرط ہے۔ کسی عورت سے زبردستی نکاح کرنا جائز نہیں۔ اسلام کی نمائندہ تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ہے جب کہ کسی مرد کو یہ اجازت دی گئی ہو کہ وہ کسی عورت کو جبراً اپنے نکاح میں لے آئے۔
حدیث میں آیا ہے کہ کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے (لا تنکح البکر حتی تستأذن، متفق علیہ) حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ایک لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ اس کے باپ نے اس کی مرضی کے خلاف اس کا نکاح کر دیا ہے۔ آپ نے اس کو اختیار دیا کہ چاہے تو نکاح کو باقی رکھے اور چاہے تو اس کو توڑ دے (عن ابن عباس، قال ان جاریة بكراً أتت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فذكرت أن اباها زوجها وهي كارهة فخیرها النبي صلى الله عليه وسلم ( رواه ابو داود دار قطنی )
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues