Al-Risala · April 1989 · page 10

تعداد کی نابرابری

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۱۰

عن ابن عباس ، قال كان زوج بريرة عبداً اسود يقال له مغيث - كانى انظر اليه يطوف خلفها فى سكك المدينة يبكى ودموعه تسيل على لحيته - فقال النبي صلى الله عليه وسلم للعباس - يا عباس ، الا تعجب من حب مغيث بريرة ومن بغض بريرة مُغِيثًا؟ ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لو راجعته - فقالت يا رسول الله اتا مرنى - قال انما اشفع۔ قالت لا حاجة لى فيه۔

(رواه البخارى)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر ایک سیاہ فام غلام تھا۔ اس کا نام مغیث تھا۔ گویا کہ میں مغیث کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینہ کے راستوں میں بریرہ کے پیچھے چل رہا ہے۔ وہ رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی تک بہہ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس سے کہا کہ اے عباس، کیا تم کو بریرہ کے ساتھ مغیث کی محبت اور مغیث کے ساتھ بریرہ کی نفرت پر تعجب نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے کہا کہ کاش تم اس کی طرف رجوع کر لو۔ بریرہ نے کہا کہ کیا آپ مجھ کو اس کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ صرف سفارش کر رہا ہوں۔ بریرہ نے کہا: مجھے اس کی حاجت نہیں۔ تعدد ازواج کا ایک واقعہ وہ ہے جو حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کے زمانہ میں پیش آیا۔ ایک بیوہ خاتون ام ابان بن عتبہ کو چار مسلمانوں کی طرف سے نکاح کا پیغام ملا جو سب شادی شدہ تھے ۔ ان چار حضرات کے نام یہ ہیں ۔ عمر بن الخطاب، علی بن ابی طالب، زبیر اور طلحہ ۔ ام ابان نے طلحہ کا پیغام قبول کر لیا اور بقیہ تینوں کے لیے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ام ابان کا نکاح طلحہ سے کر دیا گیا۔ یہ واقعہ مدینہ (اسلامی دار السلطنت) میں ہوا۔ جن لوگوں کے پیغام کو رد کیا گیا، ان میں وقت کے امیر المومنین کا نام بھی شامل تھا۔ مگر اس پر کسی نے تعجب یا بیزاری کا اظہار نہیں کیا۔ اور نہ اس بنا پر وہاں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام میں عورت کو اپنے بارہ میں فیصلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ عورت کا ایک ایسا حق ہے جس کو کوئی بھی اس سے چھین نہیں سکتا ، حتی کہ وقت کا حکمراں بھی نہیں ۔ ان احکام اور واقعات سے ثابت ہوتا ہے یتےایسےہوناچاہیے تہیہیں میرےکساں اسلام میں حاملہ کی حدتک نکاح کرنے کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page