مسئلہ کا حل نہ کہ حکم
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۱۱
اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی مرد چار عورتوں کو پکڑ کر اپنے گھر میں بند کرلے۔ یہ دو طرفہ رضا مندی کا معاملہ ہے۔ وہی عورت کسی شادی شدہ مرد کے نکاح میں لائی جاسکتی ہے جو خود اس کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر بلا اکراہ راضی ہو۔ اور جب یہ معاملہ تمام تر عورت کی رضا مندی سے انجام پاتا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کیا حق۔ موجودہ زمانہ میں آزادی انتخاب (Freedom of choice) کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اسلامی قانون میں یہ قدر پوری طرح موجود ہے۔ البتہ "مساوات نسواں" کے علم بردار آزادی انتخاب کو پابندی انتخاب کے ہم معنی بنا دینا چاہتے ہیں۔
مسئلہ کا حل نہ کہ حکم
مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عورت اور مرد کی تعداد میں نابرابری ہماری دنیا کا ایک مستقل مسئلہ ہے۔ وہ جنگ کی حالت میں بھی پایا جاتا ہے اور جنگ نہ ہونے کی حالت میں بھی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب دونوں صنفوں کی تعداد میں نابرابری ہے تو اس نابرابری کے مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے۔ یک زوجگی کے اصول پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جن بیوہ یا غیر بیوہ عورتوں کو شوہر نہ ملیں، وہ اپنی فطرت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کیا کریں ۔ وہ سماج میں کس طرح اپنے لیے ایک با عزت زندگی حاصل کریں ۔
ایک طریقہ وہ ہے جو ہندوستان کی روایات میں بتایا گیا ہے۔ یعنی ایسی (بیوہ) عورتیں اپنے آپ کو جلا کر اپنے وجود کو ختم کرلیں۔ تاکہ نہ ان کا وجود رہے اور نہ ان کے مسائل۔ یا پھر ایسی عورتیں گھر سے محروم ہو کر سڑکوں کی بے کس زندگی گزارنے پر راضی ہو جائیں ۔ اس اصول پر عمل کرنے کی بنا پر ہندو سماج کا کیا حال ہوا ہے، اس کی تفصیل جاننا ہو تو انڈیا ٹوڈے (۱۵ نومبر ۱۹۸۷ء) کی ۸ صفحات کی تصویر پر رپورٹ ملاحظہ فرمائیں جو اس بامعنی عنوان کے تحت شائع ہوئی ہے کہ بیوائیں ، انسانیت کا برباد شدہ ملبہ: Widows: Wrecks of humanity اس حل کے بارہ میں یہاں کسی مزید گفت گو کی ضرورت نہیں ۔ کیوں کہ مجھے یہ امید نہیں کہ موجودہ زمانہ میں کوئی با ہوش آدمی اس طریقہ کی وکالت کر سکتا ہے یا کسی بھی درجہ میں وہ اس مذکورہ مسئلہ کا حل سمجھ سکتا ہے۔
دوسری صورت وہ ہے جو مغربی ملکوں کی "مہذب سوسائٹی" میں رائج ہے۔ یعنی کسی ایک مرد کی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues