Al-Risala · April 1989 · page 12

Wanted an evening guest

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۱۲

دوسری منکوحہ بیوی بننے پر راضی نہ ہونا، البتہ بہت سے مردوں کی غیر منکوحہ بیوی بن جانا۔ دوسری عالمی جنگ میں یورپ کے کئی ملک لڑائی میں شریک تھے۔ مثلاً جرمنی، فرانس، انگلینڈ وغیرہ۔ ان میں مرد بڑی تعداد میں مارے گئے۔ چنانچہ جنگ کے بعد مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان ملکوں میں جنسی بے راہ روی عام ہوگئی۔ یہاں تک کہ بہت سی بے شوہر عورتوں کے گھروں کے سامنے اس قسم کے بورڈ لکھے ہوئے نظر آنے لگے کہ رات گزارنے کے لیے ایک مہمان چاہیے:

Wanted an evening guest

یہ صورت حال مغرب میں جنگ کے بعد بھی مختلف صورتوں میں بدستور باقی ہے۔ اب اس کو باقی رکھنے کا سبب زیادہ تر صنعتی اور مشینی حادثات ہیں جس کی تفصیل اوپر درج کی گئی۔ غیر قانونی تعدد ازواج جن قوموں میں تعدد ازواج کو ناپسند کیا جاتا ہے، ان کو اس کی یہ قیمت دینی پڑی کہ ان کے یہاں اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ایک چیز رائج ہوگئی جس کو مسٹریس (Mistress) کہا جاتا ہے۔ ان قوموں کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس فطری عمل کو روک سکیں جس کے نتیجہ میں اکثر معاشرہ میں عورتوں کی تعداد زیادہ اور مردوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ایک طرف آبادی کے تناسب میں یہ فرق اور دوسری طرف تعدد ازواج پر پابندی، اس دو طرفہ مسئلہ نے ان کے یہاں مسٹریس کی برائی (بالفاظ دیگر غیر قانونی تعدد ازواج) کو پیدا کر دیا۔

مسٹریس (Mistress) کی تعریف ویبسٹر ڈکشنری (Webster’s Dictionary)

میں یہ کی گئی ہے کہ وہ عورت جو کسی مرد سے جنسی تعلق رکھے، اس کے بغیر کہ اس سے اس کا نکاح ہوا ہو:

A woman who has sexual intercourse with and, often, is supported by a man for a more or less extended period of time without being married to him; paramour. مسٹریس کا یہ طریقہ آج، بشمول ہندوستان، تمام ان ملکوں میں رائج ہے جہاں تعدد ازواج پر قانونی پابندی ہے یا سماجی طور پر اس کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے ارب۔ سالہ اپریل ۱۹۸۹

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page