Al-Risala · January 1989 · page 16

مسجد

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۶

"اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تجھ سے امان کا طالب ہو تو اس کو اپنے پاس آنے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے۔ پھر اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچا دو۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے (توبہ ٦) معلوم ہوا کہ اسلام کا گھر، مسلمانوں کے لئے عبادت اور اصلاح کا مقام ہونے کے ساتھ، دوسری قوموں تک خدا کا پیغام پہنچانے کا مرکز بھی ہے۔ یہ جس طرح اسلام کے سمٹنے کی جگہ ہے، اسی طرح وہ اسلام کے پھیلنے کا نقطہ بھی ہے۔ یہاں خدا کا دین استحکام حاصل کرتا ہے اور یہیں سے وہ اپنے سفر کو بھی جاری کرتا ہے۔ یہ اسلام کا سمندر بھی ہے اور اس کا بھاپ اٹھنے کا مقام بھی۔ مسجد کے اندر تبلیغ کی تاثیر اور تبلیغ کی عظمت تاریخ سے ثابت ہے۔ مغل قبائل نے تیرھویں صدی عیسوی میں مشرق کی جانب سے عالم اسلام پر حملہ کیا، اور اس کے بڑے حصہ میں اسلام کے نشانات کو مٹا ڈالا۔ مگر اسلام کے انھیں کھنڈروں سے اسلام دوبارہ ایک تسخیری طاقت بن کر ابھرا۔ مغلوں نے اسلام قبول کر لیا۔ وہی مسجدیں جن کو ہلاکو نے سمرقند سے حلب تک اپنے راستہ میں تباہ کر دیا تھا، اس کے پوتوں نے دوبارہ ان مسجدوں کی تعمیر کی اور ان کی چھتوں کے نیچے خدائے واحد کے آگے سجدہ کیا۔

آج اسلام کو جو چیلنج در پیش ہے، اس کے جواب کی صورت یہ ہے کہ مسجد کو اس کے پورے معنوں میں زندہ کیا جائے۔ ایک عرب عالم ڈاکٹر حسین مونس کے یہ الفاظ نہایت صحیح ہیں : ان الاسلام اليوم يخوض معركة آج اسلام کو ایک جنگ کا سامنا ہے اور اس والمساجد من اهم اسلحتنا فيها میں مسجدیں ہمارا نہایت اہم ہتھیار ہیں۔

الوعی الاسلامی (کویت)، رجب ۱۳۹۳ھ ، صفحہ ۶۰ میوات کا سفر صفحات ۲۲۰ هدیه ۲۵ روپیہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues

Printed page