Wanted an evening guest
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹
بہترین مواقع اس کو حاصل رہتے۔ مگر ان کے سیاسی اسلام نے خود اپنی ہی دنیا کو اسلام کے لیے ایک قسم کا قید خانہ بنا دیا ہے۔
صنعاء (یمن) کے ہوائی اڈہ پر اترا تو ۳۱ اکتوبر کا سورج نکل رہا تھا۔ یہاں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ کاؤنٹر پر ضروری اندراجات کرانے کے بعد میں عام گیٹ سے باہر آیا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کانفرنس کا کوئی آدمی میری رہنمائی کرنے اور ساتھ لے جانے کے لیے موجود نہیں ہے۔ ادھر اُدھر دیکھنے کے بعد میں پولیس (شرطہ) کے دفتر میں گیا۔ صنعاء کے روزنامہ الثورة (۳۰ اکتوبر ۱۹۸۸) کے صفحہ اول پر مذکورہ کانفرنس کے افتتاح (۲۹ اکتوبر) کی روداد نمایاں طور پر شائع ہوئی تھی۔ یہ افتتاح یہاں کے صدر (رئیس) علی عبداللہ الصالح نے کیا تھا۔ اس اخبار کو میں نے پولیس افسر کو دکھایا اور کہا کہ میں اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔ مگر یہاں کوئی شخص مجھے رسیو کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔ ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ ایک صاحب مجھے تلاش کرتے ہوئے پولیس کے دفتر میں آ گئے۔ یہ عبدالرحمن اسماعیل الشبیبی (مدیر الحج والمؤتمرات) تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم گاڑی لے کر وی آئی پی لاؤنج میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ چنانچہ ان کے ساتھ روانہ ہو کر مذکورہ مقام پر پہنچا۔ اور ان کے ساتھ ہوٹل تک آیا۔
اس واقعہ کے بعد دل بھر آیا۔ دنیا کے اس تجربہ سے میرا ذہن آخرت کی طرف مڑ گیا۔ زبان سے بے اختیار نکلا : کیسا عجیب ہوگا اگر آخرت میں ایسا ہو کہ میں اپنے احساسِ عجز اور احساس تقصیر کے تحت عام دروازہ سے گردن جھکا کر نکل رہا ہوں۔ اس وقت فرشتے میرے پاس آئیں اور کہیں کہ اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ میرے بندے کو ادھر لے آؤ اور اس کو خاص دروازہ سے نکالو، ہم نے یہاں اس کے لیے خصوصی انتظام کر رکھا ہے۔
صنعاء میں میرا قیام شیراٹن ہوٹل (کمرہ ۳۳۰) میں تھا۔ یہ ہوٹل پہاڑی سے متصل ہے۔ اس میں ایک نئی چیز یہ دیکھی کہ عام ہوٹلوں میں ریسپشن گراؤنڈ فلور پر ہوتا ہے۔ مگر اس ہوٹل میں ریسپشن چھٹی منزل پر تھا۔ اس کی نیچے کی منزلیں ایک طرف پہاڑ سے ڈھکی ہوئی تھیں چھٹی منزل پر زمین کی سطح ملتی تھی، چنانچہ چھٹی منزل پر ریسپشن اور آمدورفت کے راستے بنائے گئے تھے۔ ہوٹل کے اس نظام کو دیکھ کر دل نے کہا : اس دنیا میں کبھی نیچے سے راستہ نکالنا ہوتا ہے اور کبھی اوپر
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues