Wanted an evening guest
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۳۰
سے۔ اس ”فرق“ کو جاننے ہی میں زندگی کی تمام بڑی بڑی کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ ہوٹل کے کمرہ میں ایک فولڈر تھا۔ اس کا عنوان تھا : ضيفنا الكريم (Dear guest) اس میں بہت سے سوالات تھے اور ”مہمان“ سے گذارش کی گئی تھی کہ جب وہ ہوٹل سے جانے لگے تو اس کو بھر کر استقبالیہ میں چھوڑ دے۔ ان سوالات کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ نے اپنے تجربہ میں ہمارے ہوٹل کو کیسا پایا۔ ہمارے عملہ کی کارکردگی ، ہمارے کمروں کا نظام ، ہماری سروس وغیرہ کے بارہ میں جو تجربات آپ پر گزرے ہوں ان کو سوالات کے آگے تحریر کر دیں۔ اسی فولڈر کا ایک حصہ موظفونا وعمالنا (Our people) عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تھا۔ اس میں مختلف پہلوؤں سے پوچھا گیا تھا کہ ہمارے ہوٹل کے عملہ نے آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا :
Gave you a friendly greeting upon arrival Were courteous and helpful at the front desk Smiled and greeted you each time they saw you Performed their jobs quickly and efficiently Were enthusiastic about their jobs Took personal responsibility to answer your questions Helped you without being asked, anticipated your needs Took personal responsibility to resolve your problems Were friendly and hospitable Showed that they wanted you to come back Overall, how well did our people perform? اس کو پڑھ کر بے اختیار دل بھر آیا۔ آنکھوں سے آنسو ابل پڑے۔ میں نے سوچا کہ دنیا کے فائدے کے لیے آدمی کتنا زیادہ اہتمام کرتا ہے، مگر آخرت کے فائدے کے لیے لوگ کسی اہتمام کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ دکاندار اور گاہک کا جو رشتہ ہے، وہی اخروی طور پر داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ مگر آج کوئی داعی نہیں جو اپنے مدعو کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرے جو ہوٹل کا مالک اپنے گاہکوں کے ساتھ کر رہا ہے۔
دل نے کہا: لوگ اپنی دنیا کی خاطر لوگوں سے مسکرا رہے ہیں۔ مگر خدا کی خاطر لوگوں سے مسکرانے والا کوئی نہیں۔ دکاندار اپنے گاہک کا استقبال کرنے کے لیے بے قرار ہے مگر داعی کو اپنے مدعو کا استقبال کرنے سے کوئی دل چسپی نہیں۔ دنیا کی اقوام سے مسلمانوں کا یہی غیر داعیانہ سلوک ان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ مسلمان جب تک اس معاملہ میں اپنی اصلاح نہ کریں، وہ خدا کی رحمتوں
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues