Al-Risala · April 1989 · page 21

Wanted an evening guest

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲۱

کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ خدا اسی شخص کا مسکرا کر استقبال کرتا ہے جس نے خدا کی خاطر اس کے بندوں کا مسکرا کر استقبال کیا ہو۔

کئی منزلہ عمارتوں میں ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں اس میں رہنے والے لوگوں کو کس طرح بچایا جائے ۔ اس مقصد کے لیے اونچی عمارتوں میں مختلف قسم کی ضروری ہدایات جگہ جگہ درج ہوتی ہیں۔ ہوٹل میں ایک جگہ یہ ہدایت لکھی ہوئی نظر آئی :

في حالة نشوب الحريق عليك استعمال السلم وعدم استعمال المصعد یعنی اگر عمارت میں آگ لگ جائے تو عمارت سے نکل کر باہر جانے کے لیے لفٹ (Elevator) استعمال نہ کریں بلکہ سیڑھیوں کے ذریعہ اتریں ۔ اس ہدایت کی ضرورت اس لیے ہے کہ عمارت میں آگ لگنے کی صورت میں بجلی فیل ہو سکتی ہے۔ ایسی حالت میں آدمی اگر لفٹ کے اندر داخل ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو آگ کے قید خانہ میں بند کر لے گا۔ اس کے بعد اس کے زندہ بچنے کی رہی سہی امید بھی ختم ہو جائے گی۔

لفٹ عام حالت میں تیزی کے ساتھ چڑھنے اترنے کا ذریعہ ہے ۔ مگر عمارت میں آگ لگنے کی صورت میں معاملہ الٹا ہو جاتا ہے۔ اب آدمی کے لیے تیز رفتار ذریعہ کے مقابلہ میں سست رفتار ذریعہ زیادہ کار آمد بن جاتا ہے۔ تیز سفر بظاہر بہت اچھی چیز ہے ۔ مگر بعض اوقات تیز سفر موت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور سست سفر زندگی کا ذریعہ۔

یمن اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہے ۔ جنوبی یمن اور شمالی یمن۔ جنوبی یمن پر مارکسی ذہن رکھنے والوں کا قبضہ ہے ۔ مگر شمالی یمن میں اسلامی فکر کے لوگ چھائے ہوئے ہیں۔ میرا سفر شمالی یمن میں ہوا۔ ایک صاحب نے میری عربی کتابوں کی فہرست مانگی۔ فہرست بتاتے ہوئے میں نے کہا کہ ” ایک کتاب کا نام سقوط المارکسیة ہے ۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ کتاب آپ کے یہاں پسند کی جائے گی یا نہیں؟ انھوں نے فوراً کہا کہ مارکسی حکومت جنوبی یمن میں ہے۔ ہمارے یہاں (شمالی یمن میں) اسلامی شورائی نظام ہے (الحكم الماركسي في جنوب اليمن اما اليمن الشمالية فالحكم فيها شوروی (اسلامی) شمالی یمن میں کافی ترقیاتی کام جاری ہیں۔ یہ سب زیادہ تر سعودی عرب ، کویت اور عرب امارات وغیرہ کے تعاون سے ہو رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page