Wanted an evening guest
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲۲
روایات میں آتا ہے کہ یمن کا وفد مدینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اَنَاكُمْ اهل اليمن۔ هم ارق افئدۃً والين قلوباً۔ الایمان یمان والفقه یمان والحكمۃ يمانيّة ( بخاری ومسلم) یعنی تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں۔ وہ رقیق القلب ہیں اور نرم دل ہیں۔ ایمان تو یمن والوں کا ہے، سمجھ یمن والوں کی ہے، حکمت یمنی حکمت ہے۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایمان اور فقہ اور حکمت ہمیشہ کے لیے یمن والوں کی خصوصیت ہے۔ اس کا مقصد دراصل ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام قبول کرنے کے لیے آئے۔ یہ ایک وقتی کلمہ ہے نہ کہ کوئی ابدی قانون۔ جو لوگ اس حقیقت کو نہ جانیں، وہ احادیث کو سمجھنے میں سخت غلطی کریں گے۔
قرآن کی سورہ نمبر ۸۵ میں " اصحاب اخدود" کا ذکر ہے۔ یعنی قدیم زمانہ کے کچھ خدا پرست جن کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھے میں ڈال کر وحشیانہ طریقہ سے ہلاک کر دیا گیا تھا (البروج)۔ اصحاب اخدود کون لوگ تھے، ان کے بارہ میں قطعیّت کے ساتھ کوئی چیز ثابت نہیں۔ تاہم ایک تفسیر یہ ہے کہ یہ واقعہ حضرت مسیح کے پیروؤں کے ساتھ یمن میں ہوا۔ یہ غالباً ۵۲۳ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت یمن میں ایک یہودی بادشاہ ذونواس کی حکومت تھی۔ اس نے یمن کے عیسائیوں کو یہودی بنانا چاہا۔ وہ لوگ اس کے لیے راضی نہیں ہوئے۔ یہودی بادشاہ ان پر سخت برہم ہوا اس نے کچھ عیسائیوں کو قتل کر دیا اور کچھ کو آگ میں ڈال کر جلا دیا۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد ۲۰ ہزار بتائی جاتی ہے۔
روایات بتاتی ہیں کہ ان یمنی عیسائیوں میں سے ایک شخص (ذوتعلیبان) بھاگ کر باہر چلا گیا ۔ اس نے روم کے عیسائی بادشاہ قیصر اور حبش کے عیسائی حکمراں نجاشی کو اس ظالمانہ واقعہ کی اطلاع دی ۔ اس کے بعد حبش کی حکومت نے اپنے فوجی سردار اریاط کی رہنمائی میں ۷۰ ہزار حبشیوں کی فوج تیار کی۔ رومی سلطنت نے بحری بیڑہ دیا جس کے ذریعہ فوج یمن کے ساحل پر اتاری گئی۔ اس نے لڑکر ذونواس کی فوج کو شکست دی۔ اور ذونواس کو قتل کر ڈالا ۔ اس طرح یمن سے یہودی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues