Al-Risala · January 1989 · page 17

حکیمانہ طریقہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۷

حکیمانہ طریقہ

معین الدین صاحب (پیدائش ۱۹۵۶ء) بگہا (ضلع چمپارن) کے رہنے والے ہیں۔ ۴ اگست ۱۹۸۸ء کی ملاقات میں انھوں نے اپنے یہاں کا ایک واقعہ بتایا جو بے حد سبق آموز ہے۔ بگہا کی جامع مسجد کا نام جامعہ انوار ہے۔ ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء کی رات کو کسی شخص نے خنزیر کاٹ کر اس کا سر مسجد کے اندر سائبان والے حصے میں ڈال دیا۔ صبح کے وقت جب لوگ نماز فجر کے لئے آئے تو نماز کی ادائیگی کے بعد ایک شخص (ارمانی خاں) نے اس کو دیکھا۔ اس وقت بگہا کے امیر تبلیغ حاجی اسرار الحق صاحب حسب معمول نمازیوں کو بیٹھا کر تعلیم کر رہے تھے۔ ارمانی خاں نے واقعہ کی خبر دی تو وہ فوراً اٹھ کر مقام واردات پر آئے۔ انھوں نے دیکھا کہ واقعہ خنزیر کا کٹا ہوا سر مسجد کے اندر پڑا ہے۔

حاجی اسرار الحق صاحب جو الرسالہ کے مستقل قاری ہیں، انھوں نے شور و غل کرنے کے بجائے یہ کیا کہ فوراً اس کو کپڑے میں لپیٹ کر اٹھا لیا۔ پھر موذن کے ہمراہ وہ تیزی سے اس کو لے کر باہر نکلے اور لے جاکر بیت الخلاء کے کنوئیں (بورنگ) کے اندر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ مسجد میں آئے اور پانی سے اچھی طرح دھو کر مسجد کو صاف کر دیا۔ اس کے بعد حاجی صاحب ڈاکٹر ایم یو خان سے ملے۔ انھوں نے حاجی صاحب کی کارروائی سے اتفاق کیا۔ دونوں مقامی تھانہ میں گئے۔ وہاں انھوں نے پولیس کو پورے واقعہ کی خبر دے دی۔ تھانہ والوں نے حاجی صاحب کی بہت تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو ہمارے اوپر پہاڑ اتنا بڑا بوجھ تھا، آپ نے اس کو ہمارے سر سے ٹال دیا۔ بگہا کے مہتر خنزیر پالتے ہیں اور اس کا کاروبار کرتے ہیں۔ پولیس والے مہتروں کی بستی میں گئے اور ان کو سخت ڈانٹ ڈپٹ کی۔ تاہم اصل مہتر جس کے کہنے پر یہ کارروائی کی تھی، وہ رات ہی کو بھاگ کر نیپال چلا گیا۔

معین الدین صاحب نے بتایا کہ خبر سن کر بڑی تعداد میں مسلمان مسجد میں جمع ہوگئے اور انھوں نے حاجی صاحب کو برا بھلا کہا۔ مگر ساری بستی کے ہندوؤں نے ان کی تعریف کی۔ مثلاً ایک ہندو دکاندار نے کہا کہ حاجی صاحب نے وہ کام کیا ہے جو مہان آدمی کیا کرتا ہے۔ انھوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues

Printed page