Al-Risala · April 1989 · page 23

Wanted an evening guest

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳

یہ واقعہ۵۲۵ء میں پیش آیا ۔ اس کے بعد یمن پر حبش کی عیسائی حکومت کا اقتدار قائم ہو گیا ۔ ظلم ہر شخص کے لیے ممکن ہے ، مگر ظلم پر کھڑا ہونا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں ۔ اریاط کے بعد ابرہہ یمن کا حکمراں ہوا ۔ یہی ابرہہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے کچھ پہلے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ آیا تھا تا کہ کعبہ کو ڈھادے ۔ اس نے یمن کے دار السلطنت صنعاء میں ایک بہت بڑا کلیسا (Ekklesia) بنوایا جیسا اب تک کسی عیسائی نے نہیں بنوایا تھا ۔ اس نے اعلان کیا کہ میں اس وقت تک رکنے والا نہیں ہوں جب تک عرب کے حج کو اس کی طرف پھیر نہ دوں ( لستُ بمنتهى حتى اصرف إليها حج العرب ، سيرۃ ابن ہشام ، اول ۴۳ ) روایات کے مطابق غالباً ۵۷۱ء میں وہ ۶۰ ہزار فوج کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوا ۔ اس کی فوج میں ایک درجن بڑے بڑے ہاتھی بھی شامل تھے ۔ اس لیے اس کو اصحاب فیل کہا گیا ہے مگر جیسا کہ سورہ الفیل میں بتایا گیا ہے ، ابرہہ اور اس کا لشکر خدائی عذاب کے تحت تباہ ہو گیا اور مکہ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔

ابن سبا جس کے فتنوں نے اسلامی تاریخ کو شاید سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ وہ اسی صنعاء کا رہنے والا تھا ۔ وہ ایک یہودی تھا ۔ اس کا پورا نام عبداللہ بن سبا المعروف بہ ابن السوداء تھا وہ خلیفہ سوم حضرت عثمان کا ہم عصر تھا ۔ اس نے یہ نظریہ نکالا کہ ہر پیغمبر کا ایک وصی ہوتا ہے جو اس کے بعد اس کا خلیفہ بنتا ہے ۔ محمدؐ کے وصی علی ابن ابی طالب ہیں ۔ جس طرح محمد خاتم الانبیاء ہیں ، اسی طرح علیؓ خاتم الاوصیاء ہیں ۔ اس کا کہنا تھا کہ محمدؐ کی وفات کے بعد لوگوں نے علیؓ کے سوا دوسروں کو خلیفہ بنا کر سخت غلطی کی ہے ۔ اب سب کو چاہیے کہ موجودہ خلیفہ عثمانؓ کو قتل یا معزول کر دیں اور ان کی جگہ علیؓ کو خلیفہ بنائیں ۔

صنعاء میں اس فتنہ کو پھیلانے کے زیادہ مواقع نہیں تھے ۔ چنانچہ وہ صنعاء کو چھوڑ کر مدینہ آگیا ۔ یہاں کے حالات بھی اس کے موافق نہ تھے ۔ اس کے بعد وہ بصرہ گیا ۔ پھر کوفہ اور دمشق پہنچا۔ لیکن ہر جگہ کے حالات اس کو اپنے خلاف نظر آئے ۔ آخر میں وہ مصر پہنچا ۔ اس وقت عبداللہ بن سعد ابن ابی سرح مصر کے گورنر تھے ، عبداللہ کی بعض باتوں سے یہاں کے لوگوں کو کچھ شکایات تھیں ۔ انھیں شکایتوں نے ابن سبا کو مصر میں کام کرنے کا موقع دے دیا ۔ اس نے لوگوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page