Wanted an evening guest
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲۴
جذبات کو ابھار کر مصر میں ایک عام شورش برپا کردی جس کا آخری نتیجہ حضرت عثمان ؓ کا قتل تھا۔ حکمران کے خلاف ایجی ٹیشن کی مہم چلانا اور سیاسی شکایتوں کو بیان کر کے عوام کو بھڑکانا، یہ تمام تر ابنِ سبا کی سنت ہے۔ یہ سنت آج بھی مسلمانوں میں پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہے ۔ حتی کہ موجودہ زمانہ میں جن مسلم رہنماؤں نے عمومی شہرت حاصل کی، وہ تقریباً سب کے سب وہی ہیں جو ابنِ سبا کے اس مجرب نسخہ کو استعمال کر کے شہرت اور مقبولیت کے مقام تک پہنچے ہیں۔
یمن میں ایک چھوٹا سا قصبہ مارب کے نام سے آباد ہے۔ کسی وقت یہاں عالی شان شہر قائم تھا۔ قرآن میں قومِ سبا کا ذکر ہے۔ اس کا مرکز یمن کا قدیم شہر مارب تھا۔ اس کا زمانہ ۱۵ قبل مسیح کے بعد سے ایک ہزار سال تک پھیلا ہوا ہے۔ تجارت اور زراعت میں غیر معمولی ترقی کی وجہ سے اس وقت وہ دنیا کی سب سے زیادہ مالدار قوم کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر آج دنیا کے اقتصادی نقشہ پر یمن کو کوئی قابلِ ذکر مقام حاصل نہیں۔
سبا کی قوم جنوبی عرب پر حکمراں تھی۔ تاریخ میں ان کو سبائی (Sabaean) کہا جاتا ہے۔ (1044/1) ساتویں صدی عیسوی میں یہ قوم اپنے آخری عروج پر تھی۔ اس نے سدِ مارب (Marib Dam) بنا کر اپنی زراعت کو زبردست ترقی دی جس کا ذکر قرآن میں سورہ سبا میں آیا ہے۔ یہ علاقہ اس وقت اتنا سر سبز اور خوش حال ہو گیا کہ مورخین اس کو دور قدیم کا پیرس (Paris of the ancient world) کہتے ہیں۔
سدِ مارب تقریباً چودہ میٹر اونچا اور ۶۰۰ میٹر لمبا تھا۔ وہ ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک یمن کی آبپاشی کا ذریعہ بنا رہا۔ (441/5) دورِ قدیم کے اعتبار سے وہ اتنا شاندار تھا کہ قومِ سبا کے لوگ اس پر فخر کرتے تھے۔ حتی کہ اپنی ترقی اور خوش حالی کی وجہ سے ان میں سرکشی پیدا ہوگئی۔ اس وقت، چھٹی صدی عیسوی میں بند کے اندر شگاف ظاہر ہوئے۔ یہ ابتدائی وارننگ تھی۔ مگر قومِ سبا اس سے ہوش میں نہیں آئی۔ اس کے بعد ساتویں صدی عیسوی میں سخت زلزلہ آیا اور بند سمیت پورا علاقہ ویران ہوگیا۔
صنعاء ایک تاریخی شہر ہے جو یمن کی راجدھانی ہے۔ صنعاء حضرت علیؓ کے زمانہ میں ۶۳۲ میں
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues