Wanted an evening guest
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵
اسلامی سلطنت کا حصہ بنا۔ یہ پورا شہر پہاڑ کے دامن میں بسا ہوا ہے۔ ۱۵۱۶ء سے وہ عثمانی ترکوں کے تحت تھا۔ یہ قبضہ ۱۹۱۳ء میں ختم ہوا۔ ۱۹۶۲ء میں یہاں فوجی انقلاب آیا اور "امام" کی جگہ موجودہ حکومت قائم ہوئی۔ پہلے یہاں یہودی بھی آباد تھے۔ ۵۰-۱۹۴۹ء میں تمام یہودی باشندے یمن کو چھوڑ کر اسرائیل چلے گئے۔ یہاں تمام ترقیاتی کام "انقلاب" کے بعد ہوئے ہیں۔ چنانچہ صنعاء یونیورسٹی ۱۹۷۰ء میں قائم ہوئی۔
یمن میں ایک چیز نظر آئی جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ہر آدمی اپنے پیٹ پر سینگ کی مانند یا انگریزی حرف ج (J) کی شکل کی ایک چیز باندھے ہوئے تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ خنجر ہے جس کو یہاں کی زبان میں الجنبیہ کہتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں ہر آدمی اپنے ساتھ ایک تلوار رکھتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں خنجر نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ تاہم وہ صرف علامت کے طور پر ہوتا ہے۔ اس کو کبھی لڑائی جھڑائی کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو اس کو سخت جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔
ایک صاحب نے بتایا کہ یہاں جو شخص اس کو نہ لگائے وہ کمزور شخصیت کا آدمی سمجھا جائے گا۔ بنیادی طور پر وہ بطورِ زینت کے استعمال ہوتا ہے (من لا يحملها يعتبر ذوشخصية ضعيفة وهي تلبس اساساً كالزينة)
تاہم اس رسمی خنجر کا بہت بڑا فائدہ ہے۔ یہ اگرچہ مارنے کے لیے کبھی استعمال نہیں ہوتا۔ مگر وہ یہاں کے بیشتر آپس کے جھگڑے ختم کر دیتا ہے۔ بہت کم جھگڑے ہیں جن کو عدالت میں لے جانے کی نوبت آتی ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ دو آدمیوں میں آپس کا جھگڑا ہو، خواہ وہ قتل کا ہو یا ایک ملین ڈالر کا ہو۔ دونوں اپنے قبیلہ کے سردار کے پاس جائیں گے، اور اپنے اپنے "خنجر" کو نکال کر سردار کے سامنے رکھ دیں گے۔ یہ اس بات کی ضمانت ہوگی کہ سردار جو بھی فیصلہ کر دے، وہ اس کو لازماً تسلیم کریں گے، خواہ وہ اپنے موافق ہو یا اپنے خلاف۔ یہاں کے ۸۰ فی صد جھگڑے اسی طرح عدالت میں جائے بغیر طے ہو جاتے ہیں۔
یہ روایات کی طاقت کا نتیجہ ہے۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد تمام روایات ٹوٹ گئیں، اور کوئی نئی روایت قائم نہیں ہوئی۔ یہی سب سے بڑی کمی ہے جو آج کے ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues