Wanted an evening guest
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۳۱
صحرا کے اندر ایک تہذیبی نخلستان ہے ۔ اس ہوٹل میں ظہر کی نماز پڑھی گئی اور یہیں دوپہر کا کھانا کھایا گیا یہاں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد صنعاء کے لیے واپسی ہوئی۔
قدیم شہر مارب کے ٹوٹے ہوئے مکانات اور قدیم سد مارب ، معبد شمس ، عرش بلقیس وغیرہ کے کھنڈرات سب پاس پاس واقع ہیں۔ اس پورے علاقے کو وادی سبا ا جاتا ہے۔ جب ہم کھنڈرات کی اس خشک وادی میں پہنچے تو یہ دوپہر کا وقت تھا۔ آسمان بالکل صاف تھا اور سورج اپنی پوری تابانی کے ساتھ چمک رہا تھا اور تیز روشنی بکھیر کر دیکھنے والوں کو دور سے دکھارہا تھا کہ یہ تاریخی منظر جب میرے سامنے آیا تو اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے کہ یہ سورج نہیں ہے بلکہ خدائی ٹارچ ہے جو اندھیرے میں اس لیے چلائی گئی ہے تاکہ لوگوں کو دکھا ئے کہ خدا کی طاقتیں کیا ہیں اور وہ قوموں کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کرتا ہے۔
یہاں ایک کتاب دیکھی۔ اس کا نام تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یمن کی از سر نو دریافت : Yemen Rediscovered کتاب کے مصنف مائیکل جینر (Michael Jenner) ہیں۔ وہ لندن میں پیدا ہوئے ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی اور اب لندن ہی میں رہتے ہیں۔ وہ برٹش ٹورسٹ اتھارٹی کے مڈل ایسٹ ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے یمن کا سفر کیا اور علم الآثار کی جدید تحقیقات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ کتاب مرتب کی۔ اس میں یہاں کے آثار کے بہت واضح فوٹو دیے گئے ہیں اور قدیم یمن سے متعلق نہایت مفید معلومات درج ہیں۔ یہ کتاب لانگ مین کمپنی نے چھاپی ہے۔ کتاب کے سرورق پر لکھا ہوا تھا کہ یمن عرصہ دراز تک ان ملکوں میں شامل تھا جن کے بارے میں دنیا کو بہت کم معلومات تھیں۔ یمن نے اب اپنے دروازے بیرونی مشاہدین کے لیے کھول دیے ہیں For many years one of the least-known countries in the world, Yemen has recently opened its doors to foreign visitors. آج اس طرح کی کتابیں بڑی تعداد میں مختلف ملکوں کی قدیم تاریخ کے بارہ میں شائع ہو رہی ہیں۔ یہ گویا ، ایک اعتبار سے ، قل سیروا في الأرض فانظروا كيف كان عاقبة المكذبين کی تفسیر ہے۔ قدیم زمانہ میں قوموں پر ظاہر ہونے والے فیصلے دبے ہوئے کھنڈروں کی صورت میں زمین میں
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues