Al-Risala · April 1989 · page 33

١۔ هل تفضل باعطاء تعريفت موجزاً عن حياتك

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۳۳

اس کے بعد انھں نے جو سوالات کیے ان میں سے کچھ یہ تھے :

١۔ هل تفضل باعطاء تعريفت موجزاً عن حياتك

٢۔ كم هي المؤلفات التي صدرت لكم وهل تتفضلون كتاباً منها ٣۔ هل لكم من تعليق على الصحوة الاسلامية القائمة اليوم ۴۔ ماذا تتتوقعون لمستقبل المسلمين في الهند ۵۔ بالنسبة لجارتكم الباكستان متى توقعون سيفوز في الانتخاب المقبلة آخری سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق پاکستان کے آنے والے الیکشن میں بھٹو پارٹی کامیاب ہوگی اور وہی حکومت بنائے گی ۔ یہ بات میں نے یکم نومبر ۱۹۸۸ء کو کہی تھی ، جب کہ پاکستان کا الیکشن ۱۴ نومبر کو ہوا۔

یمن کی وزارت اوقاف کی طرف سے ان کی مطبوعات بطور ہدیہ دی گئیں۔ ان میں سے ایک کتاب (القانون المدنی و المعاملات الشرعیة) تھی جس کو علماء کی ایک کمیٹی نے مرتب کیا ہے۔ یہ تقریباً ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں معاملات سے متعلق شرعی قوانین کو دفعہ وار مرتب کیا گیا ہے ۔ اس میں تیرہ سو سے زیادہ دفعات ہیں۔ کتاب اصولی قوانین (القواعد الاصولیة) سے شروع ہوتی ہے ، اور اموال اور جائداد کے غصب سے متعلق شرعی احکام پر ختم ہوتی ہے۔ مادہ ۱۲۸۶ میں کہا گیا ہے کہ شریعت کے مطابق غصب حرام ہے اور ظلم ہے (ان الغصب حرام وظلم) اس میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ جس شخص نے ایک بالشت کے برابر زمین غصب کی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کی گردن میں پہنائے گا (من غصب شبراً طوقته يوم القيامة الى سبع ارضين)

عبدالكريم بن عبداللہ العرشی (نائب رئیس جمہوریہ) نے اپنے دیباچہ میں لکھا ہے کہ یہ قانون بلاشبہ بہترین چیز ہے جو عمومی طور پر ساری انسانیت کے لیے اور خصوصی طور اسلامی امت کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے (ان هذا القانون لخير عمل يقدم للبشرية عامة وللامة الاسلامية خاصة) یہ کتاب شرعی احکام کی قانونی ترتیب (تقنين احکام الشريعة الاسلامية) بھی ایک کوشش ہے جس کی موجودہ زمانہ میں سخت ضرورت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues

Printed page