١۔ هل تفضل باعطاء تعريفت موجزاً عن حياتك
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۹، صفحہ ۳۴
یہاں ایک عربی کتاب نظر سے گزری۔ اس کا نام تھا ــــ قرآن کی تلاوت پر اجرت لینے پر حجت اور برہان:
اقامة الحجة والبرهان على جواز أخذ الاجرة على تلاوة القرآن اس کتاب کے مولف یمن کے ایک عالم محمد بن اسماعیل الامیر (۱۱۸۲ - ۱۱۱۰ھ) ہیں۔ بعد کے زمانہ میں اس طرح کی بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں چھوٹے چھوٹے فقہی مسائل پر حجت و برہان قائم کیا گیا۔ مگر اقوام عالم پر حجت و برہان قائم کرنے کے لیے کتابیں نہیں لکھی گئیں ۔ اگر کسی نے کوئی کتاب لکھی بھی تو وہ مناظرہ کے انداز میں، اور مناظرہ اقامت حجت نہیں ۔ لندن سے آنے والے ایک صاحب نے کہا کہ یورپ میں اسلام کے خلاف سخت تعصب پایا جاتا ہے۔ مثلاً کئی تعلیمی اداروں سے یہ رپورٹ ملی ہے کہ ایک مسلمان طالب علم نے وہاں درخواست دی ۔ انٹرویو کے وقت اس سے سوال کیا گیا کہ کیا تم بنیاد پرست (Fundamentalist) ہو۔ اگر اس نے کہا کہ ہاں تو اس کی درخواست رد کر دی جاتی ہے۔
میرے نزدیک یہ اغیار کا تعصب نہیں بلکہ خود اپنی حماقت کا نتیجہ ہے۔ وہ مسلم نوجوان جن کو '' بنیاد پرست '' کہا جاتا ہے ، انھوں نے اپنی یہ تصویر بنائی ہے کہ وہ جہاں موقع پاتے ہیں نظام کے خلاف جھنڈا لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ تخریب کاری کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ ڈسپلن کو اہمیت دیتے ہوں، وہ ان کے ساتھ وہی کریں گے جو یورپ کی بعض تعلیم گاہوں میں پیش آیا ۔ جس شخص کے متعلق تخریب کاری کا تصور ہو ، وہ خود ہمارے دینی اداروں میں قبول نہیں کیا جاتا۔ پھر ایسا آدمی یورپ کے غیر دینی اداروں میں کیوں قبول کیا جائے گا ۔ عبد المنعم الخطاب ایک مصری عالم ہیں۔ وہ تقریباً ۲۴ سال سے امریکہ میں رہتے ہیں۔ وہاں وہ ٹولیڈو کے اسلامک سینٹر میں مدیر ( ڈائرکٹر) ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لوگ امریکہ میں اسلام کی تبلیغ کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک پہلی اہم ضرورت مسلمانوں کو مسلمان بنانا ہے نہ کہ امریکیوں کو مسلمان بنانا ( مهمة الاولى عندى هي اسلام المسلمين لا اسلام الامريكيين) میں نے کہا کہ اسلام الامريكيين کے بغیر اسلام المسلمين ممکن نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ کردار محض وعظ و نصیحت سے پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اعلیٰ مقصد سے پیدا ہوتا ہے۔ موجودہ مسلمان بے مقصد ہیں،
‹ Previous page Next page › Contents of April 1989 All issues