Al-Risala · May 1989 · page 8

خفیہ تصویر کشی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۸

ان کاروں کے ڈرائیوروں نائٹنگھم شائر پولیس کی ایک خاص اسکیم کے تحت پکڑے گئے. اس اسکیم کے مطابق شہر کے دو مصروف چوراہوں پر مخصوص کیمرے نصب کر دئے گئے۔ یہ کیمرے کمپیوٹر سے جڑے ہوئے تھے اور ان کے زیر اثر کام کر رہے تھے۔

اس اسکیم کے تحت مذکورہ چوراہبہ پر سڑک کی سطح کے نیچے خاص طرح کے حساس تار رکھ دئے گئے تھے۔ کوئی گاڑی جب اس تار کے اوپر سے گزرتی تو عین اسی وقت اس سے جڑے ہوئے کیمرے متحرک ہو جاتے ۔ وہ سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں فوراً مذکورہ گاڑی کا فوٹو لے لیتے. سڑک کے نیچے بچھے ہوئے ان تاروں کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ وہ مذکورہ کیمروں کو عین اس وقت متحرک کر دیتے تھے جب کہ سڑک کی بتی لال ہوگئی ہو۔ اب یہ کیمرے خود کار نظام کے تحت گزرنے والی گاڑی کا فوٹو لے لیتے ۔ مزید یہ کہ وہ ایسے زاویہ سے گاڑی کا فوٹو لیتے تھے کہ اس کا رجسٹریشن نمبر بھی پوری طرح فوٹو میں آجائے۔

ان کیمروں کی شہادت اتنی قطعی اور اتنی مسلم تھی کہ ماخوذ افراد کے لئے ان کو غلط ثابت کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ سٹی مجسٹریٹ نے انھیں کی شہادت کی بنیاد پر مس الیسن مارٹن پر ۱۰۰ پونڈ کا جرمانہ کیا۔ اس خاتون نے ایک ہی دن میں دو جگہ اپنی گاڑی لال بتی پر دوڑا دی تھی۔ اسی طرح دوسرے کئی ڈرائیوروں پر مختلف جرمانے لگائے گئے۔ یہ تمام عدالتی سزائیں انھیں کمپیوٹر کیمروں کی لی ہوئی تصویروں کی بنیاد پر دی گئیں جنھوں نے دو سیکنڈ اور ایک سیکنڈ تک کی خلاف ورزی کو نہایت صحت کے ساتھ ریکارڈ کر لیا تھا۔

اس طرح کے واقعات ، قرآن کے لفظوں میں ، آیات اللہ (خدا کی نشانیاں) ہیں ۔ وہ " نشانی کے روپ میں حقیقت کا اظہار ہیں۔ یہ واقعات دنیوی تجربہ کے ذریعہ آخرت کے تجربہ کا تعارف کراتے ہیں۔ وہ انسانی سطح پر پیش آنے والے معاملہ کی صورت میں خدائی سطح پر پیش آنے والے معاملہ کو بتا رہے ہیں۔

مذکورہ واقعہ انسان کی خفیہ ریکارڈنگ کی مثال ہے۔ یہی خفیہ ریکارڈنگ زیادہ بڑے پیمانے پر خدا کی طرف سے ہو رہی ہے۔ انسان کی تمام گزرگاہوں پر خدا کے تار لگے ہیں اور اس کے ہر راستہ پر خدا کے کیمرے نصب ہیں۔ آدمی جیسے ہی مقررہ حد کو پار کرتا ہے ، خدا کا تصویر کشی کا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page