Al-Risala · May 1989 · page 25

دو تصویریں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵

میں اپنی لڑکیوں کے لئے مسلمان شوہر کی تلاش میں نکلا تو معلوم ہوا کہ یہاں تعلیم سے بھی زیادہ بڑی مشکلات حائل ہیں۔

ہندوستان کی ظالم پولیس نے مسلم نوجوانوں کو صحیح سالم حالت میں باقی نہیں رکھا تھا۔ میں نے پایا کہ کسی مسلم نوجوان کا حال یہ ہے کہ اس کے پاؤں میں پولیس کی گولی لگی اور اس کو اسپتال میں داخل ہونا پڑا، جہاں ڈاکٹر نے اس کا ایک پاؤں کاٹ دیا۔ کسی مسلم نوجوان کو پولیس تھانہ میں لے گئی اور اس کے ساتھ اتنی زیادہ مار پیٹ کی کہ اس کا دماغی توازن خراب ہو گیا۔ کسی مسلم نوجوان کو پولیس نے رائفل کے کندوں سے مار مار کر اس کا ہاتھ توڑ ڈالا۔ میری تلاش نے مجھے بتایا کہ قوم کے نوجوانوں کو پولیس نے یا تو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے، اور جو زندہ بچے ہیں وہ بھی اس حال میں ہیں کہ ان کا جسم اور ان کے اعضاء صحیح سالم نہیں۔

مجھ کو بہرحال اپنی لڑکیوں کی شادی کرنی تھی۔ میں نے اللہ کا نام لے کر انھیں مظلوم اور معذور نوجوانوں میں سے کچھ نوجوانوں کو منتخب کیا اور ان کا نکاح اپنی لڑکیوں کے ساتھ کر دیا۔ اب میرے گھر کا حال یہ ہے کہ وہ بیک وقت معذور خانہ بھی بنا ہوا ہے اور اسی کے ساتھ غریب خانہ بھی۔ میرا گھر اس ’’مسلم ہندوستان‘‘ کی ایک چھوٹی سی تصویر ہے جس کا زیادہ بڑا نقشہ میں ہر مہینہ اپنے پرچہ میں دکھاتا ہوں۔

میری لڑکیاں اپنے لنگڑے لولے شوہروں کے ساتھ اس طرح رہ رہی ہیں کہ ان کی زندگیاں خوشیوں سے خالی ہو چکی ہیں۔ آسمان نے کبھی ان کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں اپنے بچوں اور اپنے دامادوں سے کہتا ہوں کہ گھبراؤ نہیں، جو دنیا میں کھوئے وہ آخرت میں پاتا ہے۔ جو انسانوں کی طرف سے محروم کیا جائے اس کو خدا کی طرف سے سرفرازی عطا کی جاتی ہے۔ لیڈر صاحب کے اپنے بیانات کی روشنی میں میں نے ان کے گھر کی یہ قیاسی تصویر بنائی اور اس کے بعد دوبارہ اخبار کھولا اور لیڈر صاحب کے انٹرویو کا بقیہ حصہ پڑھنا شروع کیا۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ لیڈر صاحب کے گھر کا نقشہ اس نقشہ سے سراسر مختلف ہے جو میں نے قیاسی طور پر سمجھا تھا۔ نا قابل فہم حیرانی کے ساتھ مجھے ایسا محسوس ہوا گویا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page