دو تصویریں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۱
ایک سفر
ایک تعلیمی سیمینار کی دعوت پر بھوپال کا سفر ہوا۔ تو نمبر کو انڈین ایر لائنز کا ٹکٹ منگا یا گیا جس کا نمبر 3899903-0582 تھا۔ اس ٹکٹ کے ساتھ ایک عجیب قصہ پیش آیا۔ اس پر پوری ادا شدہ قیمت (۱۲۰۰ روپیہ) لکھی ہوئی تھی۔ اسی کے ساتھ اس پر دہلی۔ بھوپال۔ دہلی درج تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ بھوپال کا ریٹرن ٹکٹ ہے۔ مگر کھول کر دیکھا تو اس میں قاعدہ کے مطابق دو سلپ موجود نہ تھی۔ اس میں صرف ایک سلپ تھی اور اس سلپ پر فلائٹ کوپن نمبر ۲ (Flight coupon no. 2) لکھا ہوا تھا۔ کلرک نے فلائٹ کو پن نمبر کو پھاڑ کر نکال لیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ ٹکٹ بھوپال سے دہلی کی واپسی میں کار آمد ہے، مگر دہلی سے بھوپال جانے کے لئے کار آمد نہیں۔
سرکاری دفتروں میں عام طور پر کار کردگی کا یہی حال ہے۔ ہندوستان کے کسی سرکاری دفتر میں جب بھی کوئی کام کرایا جائے تو اس کو اسی وقت پوری طرح چیک کر لینا بہت ضروری ہے۔ اس لئے کہ کچھ معلوم نہیں کہ انھوں نے آپ کے کام میں کون سی قابل قیاس یا نا قابل قیاس غلطی کر دی ہو۔ میرا واپسی کا ریزرویشن کنفرم نہ تھا۔ ائیر پورٹ پہنچ کر میں نے سوچا کہ یہاں اس کو کنفرم کرالوں۔ متعلقہ کھڑکی (Endorsement & Reservation) پر پہنچا تو وہاں لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ جو لوگ بعد کو آ رہے ہیں وہ پیچھے کھڑے ہونے کے بجائے کھڑکی میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں، ویسے ہی جیسے بسوں اور ریلوں کا ٹکٹ لینے میں عام طور پر ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے لوگ عام طور پر پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ کیوں جاہلوں کا سا طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں تعلیم کی شرح بمشکل ۲۰ فی صد ہے۔ اور جس سماج کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ ہو، وہاں کی تعلیم یافتہ اقلیت بھی اسی رنگ میں رنگ جاتی ہے جو سماج کی عام حالت ہو۔ کسی سماج کی شعوری اور تہذیبی حالت کو بدلنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے تمام افراد کو تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ جزو کی ذہنی حالت کو بلند کرنے کے لئے کل کی ذہنی حالت کو بلند کرنا پڑے گا۔