دو تصویریں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۲
۱۱ نومبر ۱۹۸۸ کو انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ 433 کے ذریعہ بھوپال کے لئے روانگی ہوئی۔ دہلی سے جہاز ساڑھے گیارہ بجے روانہ ہوا۔ زمین پر دیر تک کھڑا رہنے کے بعد جب جہاز رن وے پر دوڑا اور پھر "ٹیک آف" کرکے فضا میں اڑنے لگا تو اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے میری زندگی کا جہاز " اب تک زمین پر لیت ٹکے" ہوئے تھا اور اب وہ زمین سے اوپر اٹھ کر آخرت کی طرف جا رہا ہے تاکہ خدا کے میدان عدالت میں اتر جائے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ لمحہ جب انسان " اپنی دنیا سے نکل کر " خدا کی دنیا " میں پہنچے گا۔ بیشتر لوگوں پر یہ لمحہ آچکا، بقیہ لوگوں پر یہ لمحہ بہت جلد آنے والا ہے۔ ہماری پہلی منزل گوالیار تھی۔ گوالیار ددھیہ پردیش کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں کئی صنعتیں ہیں جس نے اس شہر کو خوشحال شہر بنا دیا ہے۔ یہاں بہت سی تاریخی عمارتیں ہیں۔ یہاں کے مشہور قدیم قلعہ میں چھ مندروں کے ساتھ ایک مسجد بھی موجود ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے دور میں ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کس قدر اعتماد اور رواداری موجود تھی۔ غیر منقسم ہندوستان میں 601 ریاستیں تھیں۔ ان میں پندرہ ریاستیں بڑی ریاستیں تھیں۔ ان بڑی ریاستوں میں سے ایک گوالیار بھی تھی۔
آزادی کے بعد جو کانسٹیی ٹیوشن (دستور) بنا، اس میں ہندوستانی ریاستوں کی دو تقسیم کی گئی تھی۔ ایک وہ جو ۱۹۴۷ء سے پہلے براہ راست حکومت برطانیہ کے ماتحت تھیں۔ دوسری وہ جہاں راجہ یا نواب حکومت کر رہے تھے۔ ابتدائی دستور (۱۹۵۰) میں یہ طے کیا گیا تھا کہ اول الذکر ریاستوں میں انتظامی سربراہ (Executive head) کی حیثیت سے گورنر مقرر کئے جائیں گے، اور ثانی الذکر ریاستوں میں سابق راجہ یا نواب ہی کو انتظامی سربراہ کی حیثیت حاصل رہے گی جن کو راج پر مکھ کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ ان سابق راجاؤں کے لئے اور بھی کئی امتیازی حق تسلیم کیے گیے تھے۔ مثلاً صرف خاص (Privy perses) وغیرہ۔
مگر اس کے بعد کانسٹ ٹیوشن کی ۲۶ ویں ترمیم (۱۹۷۱ء) مرکزی اسمبلی نے منظور کی جس کے مطابق سابق راجاؤں اور نوابوں کو دی ہوئی تمام رعایتیں یک لخت ختم کر دی گئیں۔ یہ ایک نہایت عبرتناک مثال ہے۔ ہندوستان کے تمام مسلم لیڈر پچھلی نصف صدی سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے قانونی تحفظات حاصل کریں۔ انھوں نے اس واقعہ سے کوئی سبق نہیں لیا کہ جب خود دستور میں دئے