Al-Risala · May 1989 · page 34

دو تصویریں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۴

بھوپال میں میرا قیام جناب ذاکر صاحب کی رہائش گاہ پر تھا جو ایک مقامی تاجر ہیں۔ وہ خاموش کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی کا اصول دو لفظ میں یہ ہے ــــــ کم بولنا زیادہ کرنا۔

موجودہ زمانہ میں کھلے چڑیا گھر بنائے جاتے ہیں جن کو اوپن زو (Open zoo) کہا جاتا ہے۔ بھوپال میں اسی قسم کا ایک اوپن زو ہے اور اس کا سرکاری نام ون وہار ہے۔ آجکل ون وہار کے ڈائریکٹر سید مسعود الحسن صاحب ہیں۔ ان کے ساتھ ون وہار دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

یہ ون وہار گیارہ سوا یکڑ رقبہ میں قائم ہے۔ اس میں سفید شیر اور دوسرے قسم کے شیر ہیں اور بہت سے دوسرے جانور ہیں جو قدرتی ماحول میں رہتے ہیں۔ کئی شیر اور دوسرے جانور دیکھے۔ اس دوران ہمارے ایک ساتھی نے سید مسعود الحسن صاحب سے کہا کہ اس کھلے چڑیا گھر کے مینجمنٹ میں آپ لوگوں کو کسی قسم کی زحمت تو پیش نہیں آتی۔ انھوں نے کہا کہ جانوروں کو مینج کرنا ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں، البتہ انسانوں کو مینج کرنا بہت بڑا مسئلہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس زو کو دیکھنے کے لئے سالانہ تقریبا چਾਰ لاکھ آدمی آتے ہیں۔ ان انسانوں کا حال یہ ہے کہ جانور چپ چاپ بیٹھا ہو تب بھی وہ اس کو پتھر مارتے ہیں۔ جانور کی زندگی کے لئے انسان (Wild life) کا لفظ بولتا ہے، لیکن اگر ان جانوروں سے پوچھئے تو وہ کہیں گے کہ جو نام تم ہم کو دے رہے ہو، وہ تمہیں خود اپنے آپ کو دینا چاہئے۔

مدھیہ پردیش کے موجودہ چیف منسٹر ارجن سنگھ بھی ایک جلسہ میں موجود تھے۔ یہاں کے مسلمانوں نے عام طور پر ان کی تعریف کی۔ ان کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے بھوپال یونیورسٹی کا نام بدل کر برکت اللہ یونیورسٹی کر دیا ہے۔

مولانا برکت اللہ ولد شجاعت اللہ صاحب جولائی ۱۸۵۹ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ اور ۲ ستمبر ۱۹۲۷ء کو سان فرانسسکو میں انتقال کیا۔ یکم دسمبر ۱۹۱۵ء کو کابل میں جلا وطن حکومت بنائی گئی۔ راجہ مہندر پرتاپ اس کے صدر تھے اور مولانا برکت اللہ بھوپالی کو اس کا وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا۔ مولانا برکت اللہ صاحب نے ایک ہفتہ وار اخبار بھی جاری کیا تھا جس کا نام اسلامک فریٹرنٹی تھا۔ وہ بھوپال کے ممتاز " فریڈم فائٹر" تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page