Al-Risala · May 1989 · page 35

مکمل اعراض ہی تمام مسائل کا حل

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۵

یہاں کے ہندی روزنامہ افکار (۳ ستمبر ۱۹۸۸) نے برکت اللہ بھوپالی کے سلسلہ میں راجہ مہندر پرتاپ کا ایک خط ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۱ شائع کیا ہے۔ اس میں راجہ مہندر پرتاپ لکھتے ہیں : مولانا برکت اللہ نے نہایت محبت و صداقت سے اپنے فرائض ادا کئے ۔ چونکہ وہ عربی اور فارسی کے عالم تھے اور حضرت عالی سردار نصر اللہ خاں صاحب صدر اعظم افغانستان کو پہلے انگلینڈ میں مل چکے تھے ، ہم کو افغان حکومت سے رفاقت پیدا کرنے میں بڑی آسانی ہوئی۔ بعد کو مولانا صاحب لال روس کے بھی دوست بنے اور ہندوستان کو بہت کچھ فائدہ پہنچا سکے۔

” افکار “ صحافت کی دنیا میں ایک نیا تجربہ ہے۔ یہ ایک ایسا اخبار ہے جس کی زبان اردو ہوتی ہے ۔ مگر اس کا رسم الخط دیو ناگری ہوتا ہے۔ مثلاً افکار (۱۲ نومبر) نے میرا انٹرویو چھاپا ۔ اس کی سرخی کے الفاظ حسب ذیل تھے جو ہندی رسم الخط میں لکھے ہوئے تھے :

مکمل اعراض ہی تمام مسائل کا حل

اس کے قارئین میں تقریبا ۳۰ فی صد ہندو ہیں۔ میں نے افکار کے ایڈیٹر صاحب سے اس کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے ایسے ہندو ہیں جو اردو زبان کو پسند کرتے ہیں مگر فارسی رسم خط نہ جاننے کی وجہ سے اردو کو پڑھ نہیں سکتے ۔ افکار ان کی اس مشکل کو حل کر دیتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ افکار میں ہندو کو دوسرا نقطہ نظر بھی پڑھنے کو مل جاتا ہے ۔ اس طرح اس کا شک دور ہو جاتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ دوسری ریاستوں میں بھی اس قسم کے اخبار جاری کرنا چاہئے ۔ اس سے قومی ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

۱۱ نومبر کی شام کو روز نامہ افکار (ہندی ) نے انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں کے بارہ میں میرے نقطہ نظر کو سمجھنے میں کچھ لوگوں کو اس لئے مشکل پیش آتی ہے کہ دوسرے لوگ مسلم اور غیر مسلم کے تعلق کو حریف اور رقیب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس میں یہ کہتا ہوں کہ دونوں کے درمیان جو تعلق ہے ، وہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ اگر آپ حریفانہ نفسیات سے اٹھ کر داعیانہ نفسیات کے ساتھ دیکھ سکیں تو آپ ہمارے نقطہ نظر سے اتفاق کرنے پر مجبور ہوں گے ۔

۱۱ نومبر کی شام کو سیرت کے جلسہ میں خطاب تھا۔ اس کو جناب خلیل اللہ خاں ایڈوکیٹ اور ان ر سالہ مئی ۱۹۸۹ ۳۵

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page