مکمل اعراض ہی تمام مسائل کا حل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۶
کے ساتھیوں نے منظم کیا تھا۔ اس میں میں نے ایک حدیث کی تشریح کی جس کے الفاظ یہ ہیں: ان الفتنة نَائِمَةٌ لعن الله من ايقظها، فتنة سویا ہوا ہے۔ اس پر اللہ کی لعنت ہے جو اس کو جگائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ "فتنہ" خود نظام تخلیق کے تحت اس دنیا میں موجود ہے، اور وہ لازماً موجود رہے گا۔ ہمارے کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ فتنہ کی موجودگی پر شور و غوغا کریں، بلکہ اصل کام یہ ہے کہ سوئے ہوئے فتنہ کو سویا ہوا رہنے دیں، ایسا نہ کریں کہ اپنی نادانی کے ذریعہ اس کو جگا دیں۔
۲ نومبر کی دوپہر کو تعلیمی سیمینار میں شرکت کی۔ اس سیمینار کے مہمان خصوصی جناب سید حامد صاحب (سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) تھے۔ سید حامد صاحب نے اپنے علم اور تجربہ کی روشنی میں مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کا نہایت عمدہ تجزیہ کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو خود اپنی محنت سے تعلیم میں آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر وہ دوسروں کی طرف دیکھتے رہے تو ان کی تعلیمی پسماندگی میں مزید اضافہ کے سوا کچھ اور ہونے والا نہیں۔
میں نے اپنی تقریر میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم بذات خود مطلوب ہے۔ حتیٰ کہ اگر "مسلم اسکول" موجود نہ ہوں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ "غیر مسلم اسکول" میں داخلہ لیں۔ قوم کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو، اور یہ تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کا اصل مسئلہ اغیار کی مفروضہ سازش نہیں ہے۔ بلکہ سب سے بڑا مسئلہ مسلمانوں کا تعلیمی پچھڑاپن ہے۔ اس کی وجہ سے مسلم رہنماؤں اور مسلم عوام کے درمیان ایک ذہنی بعد (Intellectual gap) پیدا ہو گیا ہے۔ مثلاً مسلم یونیورسٹی کے ایک وائس چانسلر کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو امتیازی لیاقت کے راستہ پر آگے بڑھائے۔ مگر مسلم طلبہ یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں رعایتی داخلے اور رعایتی سروسیں دی جائیں۔ اس بنا پر دونوں میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ اور کوئی حقیقی تعمیری کام انجام نہیں پاتا۔ جناب سلیم شمسی صاحب اس سیمینار کے داعی تھے۔ ۱۴ نومبر کو منشی حسین خاں ٹکنیکل اسکول کے جلسہ میں شرکت کی۔ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر مسٹر ارجن سنگھ اس کے مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر میری ایک تقریر ہوئی ۔ اس میں میں نے کہا کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں تکنالوجی میں پیچھے ہوگئے۔ حالانکہ یہ عین اسلام کا تقاضا تھا کہ وہ اس میدان میں آگے رہتے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ بقدر استطاعت طاقت فراہم کرو واعد و لہم الـرسـالـی ۱۹۸۹ ۳۶