مکمل اعراض ہی تمام مسائل کا حل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۷
ما استطعتم من قوة)، قدیم فہم کے تحت مسلمان یہ سمجھتے رہے کہ اس کا مطلب فوج اور تلوار کی طاقت جمع کرنا ہے۔ چنانچہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے وہ ہتھیاروں کے ذہن سے سوچتے رہے ۔ مگر پوری دنیا میں انہیں ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی اصل طاقت علم ہے، اور علم میں بھی سائنس اور ٹکنالوجی خصوصی طور پر طاقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مختلف مثالوں کے ذریعہ اس بات کو واضح کیا گیا۔ ۱۳ نومبر کی دوپہر کو قدسیہ مسجد میں قارئینِ الرسالہ کا اجتماع ہوا۔ اس موقع پر میں نے دعوت کی اہمیت پر زور دیا۔ اس اجتماع میں کچھ ہندو بھائی بھی شریک تھے ۔ وہ الرسالہ ہر ماہ پڑھتے ہیں۔ ان میں سے ایک بھائی مسٹر راج تیواری نے تقریر کے بعد اپنا تا ثربتاتے ہوئے کہا؛ دعوت کے بنا اسلام ایک فیوز بلب کی طرح ہے۔ بلب کا فیوز اڑ جائے تو ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلام میں دعوت نہ رہے تو گویا کچھ بھی نہ رہا۔ مسٹر پی این گپتا ایڈوکیٹ نے بھی اسی قسم کی بات کہی۔ 13 نومبر کو جناب محمد خاں صاحب سابق ڈسٹرکٹ جج کی رہائش گاہ پر ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں بھوپال کے وکلاء، اور جج صاحبان شریک تھے۔ اس موقع پر میں نے اسلامی عبادت کی حقیقت بیان کی۔ اس سلسلہ میں نماز کے تین اعمال __ اللہ اکبر، الحمد للہ اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی وضاحت کی گئی۔ بھوپال میں جتنے خطابات ہوئے، ان کا ٹیپ مقامی لوگوں کے پاس موجود ہے۔ بھوپال میں پروگرام ۱۱ نومبر ۱۹۸۸ انٹرویو روزنامہ افکار (ہندی) مسلمانوں کے موجودہ مسائل کارکنان الرسالہ سے ملاقاتیں ۱۲ نومبر ۱۹۸۸ سیمینا ربمقام ٹیگور ہال میں تقریر ملت اسلامیہ کے تعلیمی مسائل جلسہ سیرت مقام برکت اللہ میدان میں خطاب سیرت محمدی کا پیغام امن ۱۳ نومبر ۱۹۸۸ محمد خاں صاحب سابق ڈسٹرکٹ جج کی رہائش گاہ پر وکلاء اور جج صاحبان سے گفتگو منشی حسین خاں ٹکنیکل اسکول کے اجلاس میں شرکت سائنسی تعلیم کی اہمیت قدسیہ مسجد میں قارئین الرسالہ کا اجتماع دعوت کی اہمیت