مکمل اعراض ہی تمام مسائل کا حل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۳۹
مگر ہر ایک بس ایک ہی اصطلاح میں سوچنا جانتا ہے۔ اور وہ ہندو مسلم کی اصطلاح ہے۔ میں نے کہا کہ یہ جھوٹی سوچ ہے۔ اصل سوچ یہ ہے خدا اور انسان کے اعتبار سے سوچا جائے۔ زندگی اور موت، دنیا اور آخرت کی اصطلاحوں میں معاملہ کو سمجھا جائے۔ یہاں ہندو اور مسلمان دونوں قومی جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں، مگر یہ سب کے سب مصنوعی جھگڑے ہیں۔ اصل چیز، جو سامنے آنے والی ہے وہ یہ کہ انسان کو مرنا ہے۔ اور اس کے بعد اس کو اپنے رب کے سامنے حساب کتاب کے لئے حاضر ہونا ہے۔ اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم۔
میں نے کہا کہ اگر ایک بلڈنگ میں آگ لگ جائے تو ہر طرف شعلے بھڑکنے لگیں گے ، اس وقت کوئی شخص ہندو مسلم اصطلاحوں میں نہیں سوچے گا۔ اس وقت ہر آدمی زندگی اور موت کے ذہن سے سوچے گا۔ ضرورت ہے کہ آگ لگنے سے پہلے یہی سوچ پیدا ہو جائے۔
حضرت پیر سعید میاں صاحب مجددی بھوپال کے مشہور بزرگ ہیں۔ ان کی ہر بات نصیحت اور وعظ سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ گفتگو کے دوران کامیاب زندگی کا گر دو لفظوں میں اس طرح بیان فرمایا۔ ذوق کی بلندی، زندگی کی سادگی۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ڈیڑھ سو سال سے مسلمانوں میں کوئی صحیح رہنما پیدا نہیں ہوا۔ اس درمیان میں جو لوگ اٹھے وہ حالات کے رد عمل کی پیداوار تھے نہ کہ مثبت فکر کی پیداوار۔ میں نے کہا کہ میں نے تو صرف ڈیڑھ سو سال کی بات کہی ہے مگر آپ کے محبوب شاعر اقبال تو اس مدت کو اس سے بھی زیادہ وسیع کر رہے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے: تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند۔
میں نے کہا کہ اگر آپ میری بات پر تنقید کرتے ہیں تو اقبال کی بات پر دگنا طاقت کے ساتھ تنقید کیجئے۔ اس کو سن کر وہ خاموش ہوگئے۔
شتری برج کشور سانگھی ایڈوکیٹ سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ وہ نہایت سلجھے ہوئے ذہن کے آدمی ہیں، وہ اگر چہ ہندو مذہب میں یقین رکھتے ہیں۔ مگر اتنی ہی قوت کے ساتھ وہ مذہبی رواداری کے بھی حامی ہیں اور ہندو مسلم تعلقات کو خوشگوار دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو مسلم لیڈر وزیروں اور حکمرانوں کی طرف دوڑ رہے ہیں ، انھیں اس قسم کے سنجیدہ ہندوؤں سے ربط بڑھانا چاہئے ۔ یہ