مکمل اعراض ہی تمام مسائل کا حل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۴۱
وجہ یہ ہے کہ شیر انسان سے ڈرتا ہے۔ وہ "چوپایہ" پر حملہ کرتا ہے۔ مگر "دوپایہ" سے خود ڈرتا ہے۔ شیر انسان خور صرف اس وقت بنتا ہے جب کہ انسان خود کوئی حماقت کر کے شیر کو یہ حقیقت بتا دے کہ وہ شیر سے کمزور ہے۔
یہی معاملہ انسانی دنیا کا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی طاقت کا ضرورت سے زیادہ اندازہ کر لیتا ہے۔ اس لئے ایک شخص دوسرے شخص سے خائف رہتا ہے۔ خوف کی یہ نفسیات جارحیت کے خلاف ایک مستقل چیک ہے۔ مگر جب کوئی آدمی غلط اور ادھورا اقدام کر کے اپنی کمزوری سے فریقِ ثانی کو باخبر کر دے۔ تو ایسے آدمی کا حال اپنے سماج میں وہی ہو جاتا ہے جو مردم خور شیر کے پڑوس میں انسان کا۔
سید مسعود الحسن صاحب جو وائلڈ لائف کے عالم ہیں، انھوں نے بتایا کہ شیر، دوسرے اکثر جانوروں کی طرح ایک علاقہ پسند (Territorial) جانور ہے۔ شیر ہمیشہ ایک علاقے کو اپنا علاقہ بنا لیتا ہے۔ اس کے نشان کے طور پر وہ ایسا کرتا ہے کہ وہ اپنے علاقہ کی "سرحدوں" پر گھوم کر پیشاب کے راستہ سے ایک خاص طرح کا کیمیکل چھڑک دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک خاص قسم کی بو ہوتی ہے جس کو دوسرے شیر پہچان لیتے ہیں۔ چناچہ دوسرا کوئی شیر جب وہاں آتا ہے تو وہ اس بو کو سونگھ کر جان لیتا ہے کہ یہ ایک اور شیر کا علاقہ ہے، وہ فوراََ وہاں سے واپس چلا جاتا ہے۔
شیر علاقائی تقسیم کے ذریعہ اس سے بچتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگیں۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ انسان کے لئے قدرت کا بتایا ہوا طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنی حد پر رہے۔ نہ ایک شخص اپنی حد سے باہر نکلے اور نہ دوسرا شخص اس کی حد کے اندر داخل ہو۔
سید مسعود الحسن صاحب نے بتایا کہ اس سے پہلے وہ شیڈول نیشنل پارک میں تھے۔ وہاں ایک جاپانی فوٹو گرافر آیا اور ایک ہوٹل میں دو مہینے تک ٹھہرا رہا۔ اس کا روزانہ کا خرچ تقریباً ۵۰۰ روپیہ تھا۔ وہ ہاتھی پر چڑھ کر پارک میں گھومتا تھا اور شیروں کے فوٹو لیتا تھا۔ اس طرح اس نے تقریباً دس ہزار فوٹو حاصل کئے اور پھر واپس چلا گیا۔
فوٹو گرافر سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ یہاں ایک ماہانہ میگزین نکلتا ہے۔ یہ ہر مہینہ کسی خاص جانور کے فوٹو شائع کرتا ہے۔ آئندہ ہمارامیگزین شیر کے فوٹو شائع کرنے والا ہے۔