Al-Risala · May 1989 · page 42

The Fall of Sparrow

الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۴۲

میں نے جو فوٹو لیے ہیں، ان میں سے ایک سو فوٹو چنے جائیں گے اور ان کو میگزین میں شائع کیا جائے گا ۔ اس میگزین کی اشاعت ایک لاکھ ہے، اور ہر ایک شمارہ کی قیمت ڈیڑھ سو روپیہ جوتی ہے۔ فوٹو گر افرنے واپسی کے بعد اپنے میگزین کا وہ شمارہ سید مسعود الحسن صاحب کے پاس بھیجا جس میں اس کے فوٹو شائع کئے گئے تھے۔ اس کو میں نے دیکھا۔ آرٹ پیپر پر شیروں کی نہایت عمدہ تصویریں چھپی ہوئی ہیں۔ یہ تصویریں شیر کی زندگی کے ہر پہلو سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ میگزین گو یا شیر کی بابت ایک فلم ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ قوموں کی صحافت کا معیار کتنا بلند ہے۔ سید مسعود الحسن صاحب سے میں نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر سالم علی کی سوانح حیات پڑھی ہے جس کا نام ہے :

The Fall of Sparrow

اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ چڑیوں سے کتنی زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ اس پر انھوں نے بتایا کہ ایک بار ڈاکٹر سالم علی ہمارے یہاں آئے۔ ہم ان کو جنگل میں لے گئے۔ وہ دوربین لگائے ہوئے چڑیوں کو دیکھاکرتے تھے۔ ایک بار انھوں نے ایک چڑیا کو دیکھنا شروع کیا جس کو بش چاٹ (Bush chat) کہا جاتا ہے۔ اسی وقت جھاڑی میں ایک شیر دکھائی پڑا۔ میں نے ان سے کہا کہ دیکھئے وہ شیر ہے۔ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے اور برابر چڑیا کو دیکھتے رہے۔ جب میں نے کئی بار کہا تو وہ بولے ۔ اس بش چاٹ کو تو دیکھو :

Look at this bush chat

اسی کا نام ذہنی ارتکاز ہے، اور اسی ذہنی ارتکاز میں تمام بڑی بڑی ترقیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ بہت سے ہندو بھائی رہائش گاہ پر اور اجتماعات میں آئے۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ تھے ہو یا تو الرسالہ (انگریزی) پڑھتے ہیں یا اردو الرسالہ کسی سے پڑھوا کر سنتے ہیں۔ انھوں نے عام طور پر یہ بات کہی کہ الرسالہ کو ہندی زبان میں نکالا جانا چاہئے۔ ایک ہندو نوجوان نے کہا ، میرے جیسے کتنے لوگ ہیں جو ابھی تک اندھیرے میں ہیں۔ ان کو ہندی الرسالہ سے روشنی ملے گی۔ مسٹر راج تیواری کو الرسالہ سے اتنی دلچسپی ہے کہ اس کو براہ راست پڑھنے کے لئے انھوں نے اردو سیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے پہلے وہ انگریزی الرسالہ پڑھ رہے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1989 All issues

Printed page