الرساله کیسٹ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۴۳
ایک نوجوان نے "آٹوگراف" کے لئے کہا۔ میں نے اپنے دستخط کے ساتھ ان کو یہ جملہ لکھ کر دے دیا: زندگی آسانیوں کا چمنستان نہیں، زندگی مشکلوں کا خارزار ہے۔
بھوپال سے دہلی کے لئے انڈین ایئرلائنز کی فلائٹ ۴۳۴ سے واپسی ہوئی۔ ائیر پورٹ پر کئی لوگ آگئے تھے۔ یہاں ایک چھوٹا سا اجتماع ہو گیا۔ جس میں اسلامی دعوت سے متعلق کچھ باتیں عرض کی گئیں۔
ہوائی جہاز کی طرف بڑھاتو گیٹ پر ایک واقعہ پیش آیا۔ انڈین ایئرلائنز کے عملہ کی ایک خاتون گیٹ پر اپنی ڈیوٹی پر کھڑی ہوئی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا : مولوی صاحب، میری بچی کے لئے دعا کیجئے، وہ بہت بیمار ہے۔ یہ لفظ وہ بار بار دہراتی رہی۔ اس نے اپنا نام روزی بتایا۔ میرا مولویانہ حلیہ دیکھ کر اس نے سمجھا کہ یہ کوئی مذہبی آدمی ہے۔ اس بنا پر اس نے دعا کے لیے کہا۔ جدید انسان یہ کہتا ہے کہ مولوی آدمی سیاست نہیں جانتا۔ مگر عین اسی وقت اس کا یقین ہے کہ "مولوی آدمی" روحانیت جانتا ہے۔ ایسی حالت میں داعی کو اس دروازے سے داخل ہونا چاہئے جو اس کے لئے کھلا ہوا ہے، نہ کہ وہ اس دروازہ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کرے جو اس کے لئے بند ہے۔
الرساله کیسٹ
مندرجہ ذیل کیسٹ تیار ہیں۔ خواہش مند حضرات منگوا سکتے ہیں (ہدیہ فی کیسٹ ۲۲ روپیہ) نمبر ۱ ایمان ۲ اسلامی دعوت کے جدید امکانات ۳ اسلامی اخلاق ۴ اتحاد ۵ تعمیر ملت ۶ سنت رسول ۷ میدان عمل