الرساله کیسٹ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۴۴
خبر نامہ اسلامی مرکز ۔ ۵۱
الرساله کا ایک نمبر زیر تیاری ہے جس کا نام " اسلام دور جدید کا خالق " ہوگا۔ اس میں مختلف پہلوؤں سے بتایا جائے گا کہ موجودہ زمانہ کی تمام علمی اور تمدنی ترقیاں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسلامی انقلاب کا نتیجہ ہیں۔ یہ نمبر تقریباً ۱۰۰ صفحات پر مشتمل ہوگا اور اسی نسبت سے اس کی قیمت بھی کچھ زیادہ ہوگی۔ آئندہ اس سلسلہ میں متعین اعلان کیا جائے گا۔ محمد شفیع صاحب رانوی (کراچی) نے اطلاع دی ہے کہ " پاکستان کے چار صوبائی دارالحکومتوں سے شائع ہونے والے ایک سرکاری روزنامہ مشرق (جو کہ کمپیوٹر ٹرمینل پر کتابت ہوتا ہے) نے گزشتہ کچھ عرصہ سے محترم مولانا وحید الدین خاں صاحب کے مضامین و مقالات کو نمایاں طور پر اور بڑے اہتمام سے شائع کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ نر نکاری" مشن ایک بڑا مشن ہے جس سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں۔ اس کا ماہانہ پر چہ دہلی سے " سنت زرنگاری " کے نام سے کئی زبانوں میں نکلتا ہے۔ اس پر چہ میں اکثر الرسالہ کے مضامین نقل کئے جاتے ہیں۔ اس طرح ایک نئے اور وسیع حلقہ میں الرسالہ کا پیغام پہنچ رہا ہے۔ ہندی روزنامہ نوبھارت ٹائمز (نئی دہلی) کے نمائندہ نے ۳ مارچ ۱۹۸۹ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات زیادہ تر سلمان رشدی کے بارے میں تھے ۔ اس سلسلہ میں اسلام کے قانون اور اس کے عدالتی نظام کی وضاحت کی گئی۔
الرسالہ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے ہر شمارہ کو کئی کئی لوگ پڑھتے ہیں۔ مثلاً محمد اشرف شاہین صاحب (پیدائش ، ۱۹۵)، کشمیر یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ہر ماہ ایک الرسالہ خریدتے ہیں اور خود پڑھنے کے بعد دوسرے طلبہ کی مجلسوں میں اس کو سناتے ہیں۔ اس طرح ایک الرسالہ سے ہر ماہ کم از کم پندرہ افراد تک اس کا پیغام پہنچ رہا ہے۔ یہی الرسالہ کے بیشتر خریداروں اور قارئین کا حال ہے۔
بھارت وکاس پریشد کی طرف سے ۱۱ - ۱۲ فروری ۱۹۸۹ کو ایک آل انڈیا سیمینار ہوا۔ اس کی کارروائیاں کانسٹی ٹیوشن کلب (نئی دہلی) میں ہوئیں۔ اس سیمینار کا موضوع یہ تھا :