الرساله کیسٹ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵
۱۲ فروری کو "کلوزنگ سشٹن" میں صدر اسلامی مرکز کا پیپر رکھا گیا تھا۔ اس کے تحت صدر اسلامی مرکز نے سیمینار میں شرکت کی۔ اس کی مختصر روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ دفتر میں اکثر ایسے لوگ آتے ہیں جو یہ کہہ کر کتابیں لے جاتے ہیں کہ "ملک یا ملک کے باہر کے کچھ غیر مسلم تعلیم یافتہ افراد ہمارے ربط میں آئے ہیں۔ ان کو ہم آپ کی انگریزی مطبوعات بطور تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ " اس طرح لوگ کثرت سے یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ غیر مسلموں کو اسلام سے متعارف کرانے کے لئے اسلامی مرکز کی مطبوعات سب سے زیادہ موزوں ہیں۔ دو امریکی پروفیسر، ڈاکٹر پیگی اشار کی اور ڈاکٹر آر کی نیشنز25 فروری ۱۹۸۹ء کو اسلامی مرکز میں آئے۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے اسلام کے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔ اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات اپنے ساتھ لے گئے۔
دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (نئی دہلی) میں ۲۸ فروری ۱۹۸۹ء کو ایک اجتماع ہوا۔ اس کا موضوع تھا "رشدی ۔ خمینی ایشو"۔ منتظمین کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اسلامی روشنی میں اظہار خیال کیا۔ یہ تقریر یورانڈین ایکسپریس (یکم مارچ)، اور جن ستا (یکم مارچ)، اور دہلی کے دوسرے اخباروں میں شائع ہوئی ہے۔ بعد کو دوسرے انگریزی پرچوں نے بھی اس کو نقل کیا۔ مثلاً سنڈے (۱۲-۱۸ مارچ ۱۹۸۹ء)، وغیرہ۔
ایک صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں: "میں الرسالہ کا مطالعہ1976سے پابندی کے ساتھ کرتا رہا ہوں ۔ اسلامی مرکز کی دوسری کتابیں بھی پڑھتا رہتا ہوں۔ شکر ہے کہ ان کتابوں کی بدولت مجھے ایمانی زندگی نصیب ہو رہی ہے۔ اس مطالعہ کے بعد میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کھل گئے دل کے دریچے آپ کی تحریر سے (احسن غنی، سرینگر، کشمیر)
جناب عبد الرحمن کو ند و صاحب سرینگر سے لکھتے ہیں: مولانا مسعودی صاحب برابر الرسالہ کا مطالعہ فرماتے ہیں۔ بعض پرچوں میں آپ کے خلاف بے بنیاد تنقید دیکھ کر مولانا مسعودی صاحب نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ انھوں نے کہا کہ مولانا وحید الدین صاحب کی تحریرات کے توڑ کے لئے ان کے مخالفین کے پاس کوئی ٹھوس اور معقول دلیل نہیں ہے،