الرساله کیسٹ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۹، صفحہ ۴۶
اس لئے ان کے مخالفین بے سر و پا اور دور از کار تاویلات سے کام لے رہے ہیں۔ ایک صاحب لکھتے ہیں: چند ماہ سے الرسالہ کا پا بندی سے مطالعہ کر رہا ہوں، الرسالہ کے مطالعہ سے پہلے میں ایک جوشیلا نوجوان تھا۔ مجھے خود نہیں معلوم تھا کہ میری زندگی کا مطلب کیا ہے۔ اور مجھے کس لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اب الحمد للہ میں ایک ہوش مند مسلمان ہوں اب میں کوشش کر رہا ہوں کہ الرسالہ کے دعوتی مشن کو اپنے طور پر جاری رکھوں (فیروز خاں اور نگ آباد)
ایک صاحب لکھتے ہیں: اس رقعہ کے همراه ۱۹۲۰ روپیوں کا ڈرافٹ حاضر خدمت ہے ۔ ماہنامہ میں آجکل جو مضامین آ رہے ہیں وہ لائق صد تحسین و آفریں ہیں جس سے ایمان میں تازگی اور روح میں ایک جولانی فراوانی اور کیفیت وجدانی پیدا ہو جاتی ہے۔ جو ہمارے دلوں میں ہوتا ہے، وہی صفحہ کا غذ پر رقم ہوتا ہے۔ حالات حاضرہ پر اور خصوصاً فساد کے موضوع پر آپ کے نظریہ کو ملحوظ رکھا جائے تو ہندو اور مسلمان کے درمیان کھڑی ہوئی خود ساختہ دیوار منہدم ہو کر نفرت، حسد اور بیگانگی کا قلع قمع ہو جائے (محمد یوسف صدیقی، پونہ ) ایک صاحب لکھتے ہیں: میری عمر ۸۰ سال کے لگ بھگ ہے۔ ۱۹۲۰ سے میری بد نصیب آنکھیں مسلم لیڈر شپ اور مسلمانوں کی سیاسی ہنگامہ آرائیوں کو بحیثیت تماشائی دیکھتی ہی ہیں۔ کس طرح ان کے چہرے پٹتے اور مات کھاتے رہے۔ کیونکہ مقصد اور حصولِ مقصد کے ذرائع غلط ۔ اس لئے نا کامی و نامرادی اس کے قدرتی ثمرات ہیں۔ آپ نے موجودہ غلط روی کو روکا ہی نہیں، بلکہ الرسالہ کے ذریعہ صغیر و کبیر کے دل و دماغ کو روشنی بخشی، حتی کہ اردو اخباروں کا رنگ تحریر اور طریقے بدل گئے (فاروق احمد خاں، علی گڑھ) ملک کی لائبریریوں میں کثرت سے الرسالہ (اردو یا انگریزی) اور اسلامی مرکز کی مطبوعات منگوائی جارہی ہیں۔ اس طرح زیادہ وسیع حلقہ میں اسلامی مرکز کا تعمیری پیغام پہنچانا ممکن ہو سکے گا۔
"دین کامل" کے نام سے ایک نئی کتاب تیار ہوئی ہے جو ۳۶۸ پر مشتمل ہے اور چھپ کر آگئی ہے۔ اس میں اسلام کی تعلیمات کا ایک جامع مطالعہ شامل ہے۔