مصلحتِ دعوت
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۱۱
مصلحتِ دعوت
عبداللہ بن ابی مدینہ کا ایک منافق مسلمان تھا۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت عناد تھا۔ چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت بے ہودہ قسم کی گستاخیاں کیں۔ آپ کی ازواجِ مطہرات کے خلاف گھناؤنے الزامات لگائے۔ حتیٰ کہ اس کا مجرم اکبر ہونا خود قرآن (النور ۱۱) میں ثبت کر دیا گیا۔
عبداللہ بن ابی کے اس مجرمانہ فعل کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق ؓ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کو قتل کردوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، اگر میں ایسا کروں تو لوگ چرچا کریں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور آپ کی ازواجِ مطہرات کی کردار کشی نہایت سنگین بات ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت بتاتی ہے کہ ایک اور بات ہے جو اسلامی نقطۂ نظر سے اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اور وہ ہے لوگوں کو اسلام کی تصویر بگاڑنے کا موقع دینا۔
ایک گستاخِ رسول کو سزا دینے میں اگر یہ اندیشہ ہو کہ لوگ اس کو بہانہ بنا کر اسلام کی دعوتی تصویر کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے ، تو ایسی حالت میں اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت کو ترجیح دی جائے گی اور گستاخِ رسول کی سزا کے معاملے کو اللہ کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ اسلام میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ چیز دعوت اور دعوت کا مفاد ہے۔ بقیہ چیزوں کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔
اسلام کے اس تقاضے کی روشنی میں موجودہ مسلمانوں کے اس شدید ردِ عمل پر غور کیجیے جو انہوں نے سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف ساری دنیا میں ظاہر کیا ہے۔ اس معاملہ میں یہ یقینی تھا اور ہے کہ سلمان رشدی کو اگر قتل کر دیا جائے ، یا اس کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کیا جائے تو عالمی پریس اور غیر مسلم صحافت اس کو بہت بڑے پیمانہ پر اسلام کی تصویر بگاڑنے کے لیے استعمال کرے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues