مصلحتِ دعوت
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۱۲
عبداللہ بن ابی کے قتل پر قدیم زمانے میں اسلام کو بدنام کرنے کا جو عمل کیا جاتا اس کا اثر مدینہ یا زیادہ سے زیادہ عرب تک محدود رہتا، مگر سلمان رشدی کے معاملہ میں اس کا زبر دست اندیشہ تھا کہ اس کے خلاف قتل کے فتویٰ کو لے کر سارے کرہ ارض پر اسلام کو بدنام کرنے کی مہم جاری کردی جائے گی، جیسا کہ فی الواقع ہوئی۔ سلمان رشدی کے معاملہ میں غور کرنے کا سب سے زیادہ قابلِ لحاظ پہلو یہی ہے مگر یہی وہ پہلو ہے جس کو موجودہ مسلم رہنماؤں نے اور ان کی پیروی میں عام مسلمانوں نے سب سے زیادہ نظر انداز کیا ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں نے بلاشبہ اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کی۔ رسول کے نام پر رسول کے طریقہ کی خلاف ورزی کی اس سے زیادہ سنگین مثال شاید پوری اسلامی تاریخ میں نہیں ملے گی۔
نیو یارک کے ٹائم میگزین ( ۲۰ مارچ ۱۹۸۹ء) میں اُٹا وہ کے عبد الحسین ماجد کفائی کا خط چھپا ہے ۔ وہ سلمان رشدی کی کتاب کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ زیادہ بہتر تھا کہ رشدی کو زندہ رہنے دیا جائے اور تمام لوگ اس پر لعنت کریں ، بمقابلہ اس کے کہ رشدی کو قتل کر دیا جائے اور پھر تمام لوگ مسلمانوں پر لعنت کریں :
It is better to let Rushdie live and be cursed by fanatical Muslims than have him killed and the Muslim world cursed by all. راقم الحروف عبد الحسین ماجد کفائی کے اس تبصرہ سے متفق ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں مقام محمود پر فائز کیے جا چکے ہیں۔ آپ کی شخصیت اس سے اعلیٰ و ارفع ہے کہ کسی " رشدی " کی تحریریں اس کو ادنی درجہ میں بھی داغدار کر سکیں ۔ مگر رشدی کے خلاف مسلمانوں نے قتل کا فتویٰ دے کر جو ہنگامہ بر پا کیا ، اس نے اسلام کے معاندین کو اس بات کا سنہری موقع دے دیا کہ وہ اس کو لے کر اسلام کو بدنام کریں۔ وہ تمام دنیا کو یہ تاثر دیں کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے ، وہ قتل و خون کا دین ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سلمان رشدی کے خلاف ہنگامہ کر کے مسلمانوں نے پایا کچھ نہیں ، البتہ انھوں نے ایک بہت بڑی چیز کھودی اور جو چیز انھوں نے کھوئی وہ وہی چیز ہے جو اسلام میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ حیثیت رکھتی ہے اور وہ ہے دعوتِ اسلامی کے مواقع ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues