مصلحتِ دعوت
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۱۳
قدیم عرب میں جو ”میڈیا“ اہل کفر کے پاس تھا، وہی میڈیا اہل اسلام کے پاس بھی تھا۔ اس معاملہ میں دونوں برابر تھے۔ موجودہ زمانہ میں صورتِ حال بالکل مختلف ہو گئی ہے۔ آج عالمی صحافت کا زمانہ ہے۔ مگر صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس ایک بھی ایسا اخبار یا ایسا میگزین نہیں جو عالمی سطح پر پھیلے اور تمام قوموں کے درمیان پڑھا جائے۔ دوسری طرف غیر مسلم اقوام کا حال یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر عالمی صحافت پر قابض ہیں۔ ان کے پاس ایسے اخبارات و رسائل ہیں جو کروڑوں کی تعداد میں چھپتے ہیں اور ساری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں۔
اس فرق نے بے حد نازک صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کی بات صرف ان کے اپنے مقامی یا گروہی پرچوں میں چھپتی ہے، وہ اس کو خود ہی چھاپتے ہیں اور خود ہی پڑھتے ہیں۔ جبکہ فریق ثانی کا یہ حال ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باتوں کو اپنے عالمی پرچوں میں چھاپتا ہے اور رات دن کے اندر ان کو ساری دنیا میں پھیلا دیتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں مسلمانوں کو نازک معاملات میں ہنگامہ آرائی کرنے سے انتہائی حد تک پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ موجودہ حالت میں ان کی ہنگامہ آرائی کا کوئی مثبت فائدہ تو ان کو نہیں پہنچے گا، البتہ یہ منفی نقصان ہو گا کہ غیر مسلم عالمی صحافت اس کو شوشہ بنا کر ساری دنیا میں انہیں بدنام کرے گی۔ وہ بے بسی کے ساتھ اپنی اور اسلام کی بدنامی کو دیکھیں گے اور اس کے دفعیہ کے لیے کچھ نہ کر سکیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues