دورِ اول کی مثال
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۱۴
دورِ اول کی مثال
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام خیال یہ ہو گیا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی یا اس کا استہزاء ایک ایسا جرم ہے جو علی الاطلاق طور پر مجرم کو واجب القتل بنا دیتا ہے۔ یعنی جیسے ہی کوئی شخص ایسے الفاظ بولے جو مسلمانوں کو رسول اللہ کی شان میں گستاخی نظر آئے ، اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ اس قسم کا مطلق نظریہ شرعی اعتبار سے بے بنیاد ہے ، اسلام میں اس کے لیے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے ساتھ استہزاء کا معاملہ کوئی اتفاقی نہیں۔ یہ مجرمانہ فعل بلا استثناء خدا کے تمام پیغمبروں کے ساتھ ہمیشہ جاری رہا ہے (الحجر ۱۱ ، الزخرف ۷) قرآن میں تقریباً ۵۰ مقامات پر بتایا گیا ہے کہ پیغمبروں کے معاصرین نے پیغمبروں کا استہزاء اور تمسخر کیا۔ انھوں نے ان کی شان میں گستاخیاں کیں۔ مگر ایک جگہ بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جہاں بھی کوئی شخص پیغمبر کا مذاق اڑائے ، فوراً اس کو قتل کر دو۔ ایسے کسی شخص کو ہرگز زندہ نہ چھوڑو۔
قرآن میں استہزاء کے جرم کا ذکر تو بار بار آیا ہے مگر اس کے مجرم کے لیے سزائے قتل کا اعلان سارے قرآن میں کہیں بھی موجود نہیں۔ قرآن میں مستہزئین رسالت کے سلسلہ میں صرف دو قسم کے ردِ عمل کا ذکر پایا جاتا ہے۔ یا تو دلائل کے ساتھ ان کی کہی ہوئی بات کو رد کیا گیا ہے ، یا انہیں خدا کی پکڑ سے اور اس کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔
یہ استہزاء کرنے والے غیر مسلمین بھی ہوتے تھے (یونس ۳۰) اور منافق قسم کے مسلمان بھی (البقرہ ۶۴ ، التوبہ ۶۵) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قسم کے لوگوں کی طرف سے یہ معاملہ اپنی بدترین صورت میں پیش آیا۔ مگر مجرد استہزاء کی بنا پر قرآن میں نہ غیر مسلموں کے لیے قتل کی قانونی سزا کا حکم دیا گیا اور نہ منافق مسلمانوں کے لیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر رسول کی اہانت اور آپ کے ساتھ گستاخی کو اس طرح مطلق انداز میں واجب القتل جرم قرار دے دیا جاتا تو یہ مجرم سے زیادہ خود اسلام کے لیے ناقابل تلافی نقصان
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues