Al-Risala · June 1989 · page 15

دورِ اول کی مثال

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۱۵

کا باعث بن جاتا۔ کیونکہ اسلام کے وہ مقدس سپاہی جن کو صحابہ کرام کہا جاتا ہے ، ان کی بیشتر تعداد ابتدا ءِ عین اسی جرم میں مبتلا تھی جس کو "رسول کی شان میں گستاخی" کہا جاتا ہے۔ اگر اس جرم کا ارتکاب کرتے ہی فورا انہیں قتل کر دیا جاتا تو یہ سادہ معنوں میں صرف مجرم کا قتل نہ ہوتا بلکہ تاریخ ساز انسانوں کا قتل ہوتا۔ اس کے بعد اسلام کی وہ تاریخ ہی نہ بنتی جو بعد کو بنی، اور جو موجودہ مسلمانوں کا سب سے زیادہ پُر فخر سرمایہ ہے۔ تمام قیمتی زندگیاں اس سے پہلے ہی ختم ہو جاتیں کہ وہ اسلام قبول کریں اور دنیا کی تاریخ میں وہ عظیم الشان کردار ادا کریں جو منصوبہ الٰہی کے تحت ان کے لیے عالمی سطح پر مقدر کیا گیا تھا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے کچھ واقعات نقل کیے جاتے ہیں۔ یہ واقعات بطور حصر نہیں ہیں، بلکہ صرف بطور مثال ہیں۔ پہلے کچھ غیر مسلموں کے واقعات درج کیے جائیں گے ، اور اس کے بعد کچھ مسلمانوں کے واقعات۔ مستقبل پر نظر قدیم مکہ میں جو ممتاز افراد تھے، ان میں سے ایک شخص کا نام سہیل بن عمروو تھا۔ آج سہیل بن عمر کا شمار صحابہ کی فہرست میں ہوتا ہے۔ مگر اس سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔ وہ بدر کی لڑائی میں مشرکین کی طرف سے شریک ہوئے۔ اس لڑائی میں رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں مشرکین کو شکست ہوئی۔ ان کے ۷۰ آدمی گرفتار کر کے مدینہ لائے گئے۔ ان میں سے ایک سہیل بن عمر و بھی تھے۔

سہیل بن عمرو کے اندر زبان آوری کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ وہ خطیب قریش کہے جاتے تھے۔ اپنی اس صلاحیت کو انھوں نے بھر پور طور پر اسلام کے خلاف استعمال کیا۔ وہ شعر اور خطابت کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتے تھے۔ اور آپ کے خلاف اور اسلام کے خلاف لوگوں کو اکساتے رہتے تھے۔ جب وہ گرفتار ہو کر مدینہ آئے اور ان کے اوپر مسلمانوں کو پوری طرح قابو ہو گیا ، تو حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اجازت دیجیے کہ میں سہیل بن عمرو کے سامنے کے دانت توڑ دوں۔ اس طرح اس کی زبان باہر نکل پڑے گی اور اس کی آواز خراب ہو جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page