دورِ اول کی مثال
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۱۶
اس کے بعد وہ اس قابل نہ رہے گا کہ آپ کے خلاف خطیب بن کر کھڑا ہو سکے۔ بظاہر یہ ایک جائز بات تھی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں اس کا مثلہ نہیں کروں گا۔ اگر میں اس کا مسئلہ کروں تو اللہ میرا مسئلہ کرے گا، اگرچہ میں ایک رسول ہوں۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے مزید ایک بات فرمائی۔ یہ بات بظا ہر شخصی ہے مگر وہ ایک عالمی انسانی حقیقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ سہیل بن عمر و ایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں تم ان کی مذمت نہ کر سکو۔ (انہ عسٰی ان يقوم مقاماً لا تذمّه) سیرت ابن ہشام ، الجز رثانی ، صفحه 293) چنانچہ مثلہ یا قتل کے بغیر سہیل بن عمر و کو چھوڑ دیا گیا کہ وہ اپنے وطن واپس چلے جائیں۔ سہیل بن عمرو کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غیر معمولی سلوک کیا کہ غزوہ بدر (۲ھ) کے بعد ان پر قابو پانے کے باوجود انہیں رہا کر دیا۔ مگر اب بھی وہ اپنی اسلام دشمنی سے باز نہ آئے۔ انہوں نے مکہ کے لوگوں کو دوبارہ اکسایا اور تین ہزار کی فوج لے کر مدینہ پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ اندوہناک جنگ پیش آئی جس کو غزوہ احد (۳ھ) کہا جاتا ہے۔ یہی سہیل بن عمر و تھے جنہوں نے معاہدہ حدیبیہ (۶ھ) کے موقع پر لفظ رسول کو کاغذ سے محو کرایا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی یک طرفہ شرائط پر راضی ہونے کے لیے مجبور کیا تھا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی مدد فرمائی ۔ ۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا۔ اس وقت تک سہیل بن عمر و کفر کی حالت میں تھے۔ مگر اب بھی ، ثابت شدہ جرائم کے باوجود ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کوئی سزا نہیں دی۔ اس کے برعکس آپ نے اپنے اصحاب کو ان کے ساتھ حسن اخلاق کی ہدایت فرمائی۔ آپ نے کہا :
من لقّى سهيل بن عمر و فلا يحد اليه جو شخص سہیل بن عمرو سے ملے ، وہ اس کی النظر فلعمری ان سهیلاً له عقل طرف تیز نگاہوں سے نہ دیکھے ۔ میری جان کی قسم! وشرف و ما مثل سهيل يجهل الاسلام بلاشبہ سہیل عقل اور شرف والا آدمی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues