دورِ اول کی مثال
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۱۷
اور سہیل جیسا آدمی اسلام سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔
سہیل بن عمرو کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایتیں جاری رہیں۔ غزوہ ہوازن کے بعد آپ نے ان کو ایک سو اونٹ تالیف قلب کے طور پر دیے۔ اس عطیہ کے بعد وہ بالکل ڈھیر پڑے اور اسلام قبول کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بن گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب قبائل میں یہ تاثر پھیل گیا کہ وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس کی وجہ سے اسلام کو خدا کی مدد ملتی تھی۔ چنانچہ عرب قبائل کی اکثریت ارتداد کی طرف مائل ہوگئی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو مکہ کے بیشتر لوگوں نے یہ چاہا کہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ انہوں نے اس کا پورا ارادہ کر لیا۔ مکہ کی فضا اتنی خراب ہوئی کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید روپوشی ہو گئے۔
مذکورہ سہیل بن عمر و اس وقت تک اسلامی جماعت کے ایک فرد بن چکے تھے۔ وہ شاندار خطیب ہونے کے ساتھ ایک بارعب شخصیت والے آدمی تھے۔ جب انھوں نے مکہ کا یہ حال دیکھا تو وہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے۔ انھوں نے اپنی اعلیٰ خطیبہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے درمیان ایک پرزور تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ سن لو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نے اس کے سوا کچھ اور نہیں کیا ہے کہ اس نے اسلام کی قوت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جو شخص ہمارے خلاف کچھ کرے گا، ہم تلوار سے اس کی گردن مار دیں گے۔
سہیل بن عمر و کی گرج دار تقریر کو سن کر لوگوں نے رجوع کر لیا۔ انھوں نے اسلام سے پھرنے کا جو ارادہ کیا تھا، اس سے باز آ گئے۔ اس کے بعد عتاب بن اسید بھی روپوش سے نکل آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہی مطلب تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا کہ ہو سکتا ہے کہ ایک دن وہ ایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں وہ تمہارے نزدیک قابلِ مذمت نہ ہوں بلکہ قابل تعریف ہوں ۔ (سیرت ابن ہشام ، الجزء الرابع ، صفحه ۳۷۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بتاتی ہے کہ آپ کی نظر حال پر نہیں رکتی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues