Al-Risala · June 1989 · page 18

اگلی نسلوں تک انتظار

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۱۸

آپ آدمی کے حال سے گزر کر اس کے مستقبل کے امکانات کو دیکھتے تھے۔ ایک انسان کا آج اگر باغیانہ ہے تو اس کو نظر انداز کر کے آپ یہ سوچتے تھے کہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ ہمارا وفادار ہو جائے ۔ اور پھر اس کی وہ خدا داد صلاحیتیں جو اس وقت اسلام کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں، وہ اسلام کی تائید میں استعمال ہونے لگیں تاریخ بتاتی ہے کہ فی الواقع ایسا ہی پیش آیا۔

اگلی نسلوں تک انتظار

اسلامی تاریخ میں ۱۰ نبوی کو عام الحزن کہا جاتا ہے ، کیونکہ اسی سال اولاً ابو طالب اور اس کے بعد حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہو گیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ کے حالات انتہائی حد تک غیر موافق ہو گئے ۔ اس کے بعد آپ نے اسی سال مکہ سے طائف کا سفر کیا۔ یہ سفر اس امید میں تھا کہ شاید طائف میں آپ کے لیے کام کے موافق حالات مل سکیں ۔ مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ طائف کے سرداروں (عبد یالیل ، مسعود، حبیب) نے آپ کے ساتھ بے حد گستاخی اور اہانت کا سلوک کیا۔ مزید یہ کہ انھوں نے شہر کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا جو آپ کی ہنسی اڑائیں اور آپ پر پتھر برسائیں۔ آپ اس حال میں طائف سے واپس ہوئے کہ پتھروں کی مار سے آپ کا جسم خوں آلود ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ میری زندگی کا سب سے زیادہ سخت دن وہ ہے جو طائف کے سفر کے موقع پر گزرا صحیح بخاری (باب ذکر الملائکہ) میں ہے کہ جب آپ طائف سے زخم خوردہ اور غمگین حالت میں واپس لوٹ رہے تھے تو قرن ثعالب کے مقام پر حضرت جبرئیل آپ کے پاس آئے انھوں نے آپ کو آواز دے کر کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کے سلوک کو دیکھا۔ اب اللہ نے ملک الجبال (پہاڑوں کے فرشتہ) کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ آپ اہل طائف کے بارہ میں جو کچھ چاہتے ہیں، اس کا انہیں حکم دیں ۔

اس کے بعد ملک الجبال (پہاڑوں کا فرشتہ) سامنے آیا۔ اس نے آپ کو سلام کیا اور

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page