اگلی نسلوں تک انتظار
الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹
میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔ اگر آپ کہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو باہم ملا کر اس کے درمیان طائف کی بستی کو پیس ڈالوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسلوں سے وہ انسان پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے۔ (ارجوان يخرج الله من اصلابهم من يعبد الله لا يشرك به شيئا)
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اگر موجودہ نسل نہ مان رہی ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اگلی نسلوں تک انتظار کرنے کے لیے تیار تھے۔ موجودہ لوگوں کی طرف سے توہین اور سرکشی کا تجربہ ہونے کے باوجود آپؐ اس امید میں انھیں ہلاک کرنا پسند نہیں کرتے تھے کہ شاید ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد میں وہ انسان پیدا ہو جو خدا کی خدائی کا اعتراف کرے اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد کے دور میں طائف کے تمام باشندے اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اسلام کی راہ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ۔ مثلاً ابو عبیدہ مسعود ثقفی انہیں اہل طائف کی اولاد تھے۔ وہ اس مسلم فوج کے قائد تھے جس نے حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کے زمانہ میں ایران میں جہاد کیا۔ انھوں نے ہاتھیوں کی فوج کے مقابلہ میں غیر معمولی جانبازی دکھا کر ایرانی فوجوں کو اس قدر مرعوب کیا کہ انہوں نے جنگ کا حوصلہ کھو دیا۔
محمد بن القاسم ثقفی (۱۱، ۷۹۵ھ) میں سندھ کے راستہ سے ہندوستان میں داخل ہوا۔ وہ ایک انتہائی عادل اور باصلاحیت سردار تھا۔ اس نے صرف دو سال کے عرصہ میں سندھ اور پنجاب میں اتنے بڑے پیمانے پر اسلام کی اشاعت کی کہ ایک پورا علاقہ اللہ کے دین کے سایہ میں آگیا۔ موجودہ پاکستان محمد علی جناح کی دین نہیں بلکہ حقیقتاً وہ محمد بن القاسم ثقفی کی دین ہے۔
محمد بن القاسم اتنا لائق اور شریف سردار تھا کہ جب وہ ہندوستان سے واپس ہو کر دمشق گیا تو ، فتوح البلدان کے بیان کے مطابق ، اہل ہند اس کے لیے روئے اور اس کا مجمع
‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues