Al-Risala · June 1989 · page 20

آج کا دشمن کل کا دوست

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۲۰

بن کر اس کی تعظیم و تقدیس کی (فبکی اہل الھند وصودوہ) اسلام کا یہ قیمتی مجاہد اسی قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتا تھا جس کی بدترین گستاخی اور ایذارسانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر معاف کر دیا تھا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ ان کی اگلی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کے عبادت گزار بنیں گے۔

قبیلہ ثقیف (اہل طائف) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی اور ایذارسانی کا بدترین فعل کیا تھا۔ مزید یہ کہ ان کو سزا دینے کا معاملہ پوری طرح آپ کے قابو میں تھا، کیونکہ پہاڑوں کا فرشتہ (ملک الجبال) آپ کے حکم کے نفاذ کے لیے آ چکا تھا۔ مگر آپ نے انہیں سزا دینے کے بجائے اس کو پسند کیا کہ ان کی نسلوں سے ایسے افراد نکلیں جو اسلام کے سپاہی بن کر اسلام کی تاریخ بنائیں۔

حالات بتاتے ہیں کہ فی الواقع ایسا ہی پیش آیا۔ اگر آپ طائف والوں کی گستاخی کی سزا دینے کے لیے ملک الجبال کو استعمال کرتے تو طائف آج صرف کھنڈروں کی داستان ہوتا، نہ کہ اسلام کے قلعہ کی تعمیر کی شاندار تاریخ۔

آج کا دشمن کل کا دوست

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی مخالفین میں سب سے بڑا کردار جس شخص نے ادا کیا، وہ مکہ کا عمروبن ہشام ہے جو تاریخ میں ابو جہل کے نام سے مشہور ہے۔ ابو جہل کے لڑکے کا نام عکرمہ تھا۔ عکرمہ آج اصحاب رسول کی معزز فہرست میں شامل ہیں، مگر فتح مکہ سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت مخالف تھے اور اس معاملے میں پوری طرح اپنے باپ کے ساتھ تھے۔ گستاخی اور جارحیت کی کوئی قسم نہ تھی جو انھوں نے آپ کے خلاف اختیار نہ کی ہو۔ حتیٰ کہ اپنے باپ کی موت کے بعد بھی وہ بدستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سرگرم رہے۔ مثلاً غزوہ احد میں مشرک فوج کے میمنہ کے سردار خالد بن ولید تھے، اور میسرہ کے سردار عکرمہ بن ابی جہل۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عکرمہ کا جرم اتنا واضح تھا کہ فتح مکہ کے بعد وہ مکہ کو چھوڑ کر یمن کی طرف بھاگ گئے۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ ضرور قتل کر دیے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page