Al-Risala · June 1989 · page 21

آج کا دشمن کل کا دوست

الرسالہ، جون ۱۹۸۹، صفحہ ۲۱

ان کی بیوی جو مسلمان ہو گئی تھیں ،وہ یمن جا کر باصرار انہیں واپس لے آئیں ۔ وہ انتہائی شرمساری کے ساتھ اپنا سر جھکائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ مجھے امان ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں ، تم کو امان ہے ۔ اس سلسلہ میں تفصیلی واقعات سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر کار انھوں نے کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام قبول کر لیا۔

عکرمہ جب یمن سے واپس ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عکرمہ تمہارے پاس آ رہے ہیں۔ تم ان کے باپ (ابو جہل) کو بُرا نہ کہنا۔ کیونکہ مُردہ کو بُرا کہنا مُردہ تک تو نہیں پہنچتا، البتہ وہ زندہ کو تکلیف دیتا ہے۔ عکرمہ جب آپ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت خوش ہو کر ان کی طرف تیزی سے بڑھے حتیٰ کہ آپ کی چادر آپ کے اوپر سے گر پڑی۔ اسلام قبول کر نے کے بعد عکرمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں آپ سے ایک چیز طلب کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ تم طلب کرو میں تمہیں ضرور وہ چیز دوں گا۔ عکرمہ نے کہا کہ میری آپ سے یہ درخواست ہے کہ ہر دشمنی جو میں نے آپ کے ساتھ کی ہے، یا ہر رُکاوٹ جو میں نے آپ کے راستہ میں ڈالی ہے ، ہر وہ لڑائی جو میں نے آپ کے خلاف لڑی ہے ، ہر وہ بد کلامی جو میں نے آپ کے منہ پر کی ہے یا آپ کے پسِ پشت کی ہے ، ان سب کو آپ معاف کر دیں اور ان کے بارے میں اللہ سے میرے لیے استغفار فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہی ان کے حق میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! ہر وہ عداوت جو عکرمہ نے میرے ساتھ کی ، ہر وہ سرگرمی جو انھوں نے اس ارادہ سے کی کہ تیرے نور کو بجھا دیں، ان سب کو تو ان کے لیے معاف کر دے اور وہ سب کچھ جو انھوں نے میری بے آبروئی کے لیے کیا ، خواہ میرے سامنے کیا ہو یا میرے پسِ پشت ، ان سب کو تو ان سے معاف کر دے ۔ اس کے بعد عکرمہ نے کہا کہ اے رسول اللہ ! خدا کی قسم ! ہر وہ خرچ جو میں اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کرتا تھا ، اب میں اس کا دُگنا اللہ کے راستہ میں خرچ کروں گا۔ اور اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جو جنگیں میں نے کیں ، اب اللہ کے راستہ میں اس سے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1989 All issues

Printed page